ایرانی حکومت اپنے کمزور ترین موڑ پر ہے: مائیک پینس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق امریکی نائب صدر مائیک پینس نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت آج سے زیادہ کبھی کمزور نہیں رہی۔ انہوں نے کہا اس کی بنیادی فکر طاقت پر اپنی کمزور گرفت کو برقرار رکھنا ہے اور یہ گرفت دن بدن کمزور ہوتی جا رہی ہے۔

مائیک پینس جو جو آئندہ صدارتی انتخابات کے ممکنہ ریپبلکن امیدواروں میں سے ایک ہیں نے ان خیالات کا اظہار ایرانی حزب اختلاف کی سب سے نمایاں تنظیم ’’ مجاہدین خلق‘‘ کی سالانہ کانفرنس میں اپنے خطاب کے دوران کیا۔ یہ کانفرنس پیرس کے شمال میں ’’ اوورس-سور-اویس‘‘ میں ہفتہ کی شام منعقد کی گئی تھی۔ اس کانفرنس میں سابق برطانوی وزیر اعظم لز ٹیرس اور سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی شرکت کی تھی۔

پینس نے مزید کہا کہ ’کوئی جابرانہ حکومت ہمیشہ کے لیے قائم نہیں رہ سکتی۔ جس طرح آزاد دنیا کو یوکرین کی حمایت کرنی چاہیے اسی طرح امریکہ بھی ایرانی عوام کو ظلم کے خلاف سپورٹ کرے گا۔ پیرس میں اس کافنرنس کے موقع پر یوکرین کے بہت سے جھنڈے نظر آئے۔

’’مجاہدین خلق‘‘ کے سیاسی محاذ ’’ایرانی اپوزیشن کی نیشنل کونسل‘‘ کی سربراہ مریم رجوی نے کہا کہ ملاوں کی حکومت کے باعث ہو سکتا ہے ہمارے لوگوں اور ہماری مزاحمت کے افراد کو مزید خونریزی کا سامنا کرنا پڑے اور پھانسیوں کی فہرست مزید طویل ہو جائے۔ اسی طرح جیلوں میں مزید افراد کو ٹھونسا جا سکتا ہے۔

مریم رجوی نے اعلان کیا کہ لیکن یہ سب کچھ خامنہ ای کو ناگزیر زوال سے بچانے کے لیے کام نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ شاہ کی آمریت کی طرح مذہبی آمریت بھی ختم ہونے والی ہے۔

بیلجیئم کے سابق وزیر اعظم گائے ورہوفسٹڈ نے کہا عالمی برادری کی تمام تر توجہ اس وقت ایٹمی مغاہدے پر مرکوز ہے۔ لیکن ایران میں اس وقت 2022 اور 2023 میں تقریباً ایک ہزار نوجوانوں کو پھانسی دی گئی ہے۔ انہوں نے تہران پر سخت پابندیوں کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ پابندیاں صرف 216 ایرانی عہدیداروں کو متاثر کر رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں