ایران کی حزبِ اختلاف کے گروپ کے اجلاس کی میزبانی پر فرانس پرکڑی تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران کی وزارت خارجہ نے جلاوطن ایرانی حزب اختلاف کے گروپ مجاہدین خلق کے اجلاس کی میزبانی کرنے پر فرانس کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ایران مجاہد خلق تنظیم کودہشت گرد قرار دیتا ہے۔

ہفتے کے روزالبانیا سے تعلق رکھنے والی مجاہدین خلق (ایم ای کے) کی تنظیم نے پیرس کے نواح میں ایک اجلاس منعقد کیا اور اس گروپ کے ہزاروں حامیوں نے فرانسیسی دارالحکومت کے مرکز میں ایک ریلی نکالی۔

سابق امریکی نائب صدر مائیک پینس اور برطانیہ کی سابق وزیر اعظم لز ٹرس نے اس اجلاس میں شرکت کی۔اس پر فرانسیسی پولیس نے ابتدائی طور پر پابندی عاید کردی تھی۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے فرانسیسی حکومت کے اجلاس کی میزبانی کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایرانی عوام کے قاتلوں کی حمایت میں ماضی کی سنگین غلطیوں کی تلافی کرنے کے بجائے فرانسیسی سیاستدان دہشت گردوں کے جمع ہونے کے لیے میدان مہیا کر رہے ہیں۔

انھوں نے فرانسیسی حکومت پر زور دیا کہ وہ 'دہشت گرد گروہوں کی حمایت' کرنے کے بجائے اپنے ہی لوگوں کے مطالبات پر دھیان دے۔

ان کا اشارہ فرانس کے دارالحکومت پیرس کے مضافاتی علاقے نانترے میں منگل کے روز الجزائر سے تعلق رکھنے والے ایک 17 سالہ نوجوان کی پولیس کی فائرنگ سے ہلاکت اور اس کے ردعمل میں سڑکوں پر پرتشدد مظاہروں کی جانب تھا۔

مجاہدین خلق تنظیم کے ارکان 1980 کی دہائی کے اوائل سے ایران سے جلاوطن ہیں۔ بہت سے ایرانیوں، بشمول تارکین وطن اور مذہبی حکام کے مخالفین کی طرف سے اس کے بارے میں گہرے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

سنہ 2013 میں البانیا نے واشنگٹن اور اقوام متحدہ کی درخواست پر اس گروپ کے ارکان کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔گذشتہ ماہ البانوی حکام نے مجاہدین خلق کے کیمپ پر چھاپہ مارا تھا اور الزام عاید کیا تھا کہ اس گروپ پر غیر ملکی اداروں کے خلاف سائبرحملے کرنے کا شبہ ہے۔

اتوار کے روز ایران نے البانیا کے اس اقدام کو 'قابل ستائش' قرار دیا تھا۔مجاہدین خلق تنظیم نے 1979 میں برپا شدہ انقلاب میں آیت اللہ روح اللہ خمینی کی حمایت کی تھی۔انھوں نے مغرب کے حمایت یافتہ شاہ کو نئے حکام کے ساتھ اختلافات سے پہلے معزول کردیا تھا اور اس کے بعد سے مجاہدین خلق ایرانی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس گروپ کے بیشتر ارکان بعد میں عراق بھاگ گئے تھے اور انھوں نے 1980-1988 کی ایران،عراق جنگ میں سابق صدر صدام حسین کا ساتھ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں