سعودی عرب کایومیہ پیداوارمیں رضاکارانہ 10لاکھ بیرل کٹوتی میں اگست تک توسیع کااعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب نے اپنی یومیہ پیداوار میں 10 لاکھ بیرل (بی پی ڈی) رضاکارانہ کٹوتی میں اگست کے مہینے تک توسیع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی نے وزارتِ توانائی کے ایک عہدہ دار کے حوالے سے بتایا کہ اگست کے مہینے میں مملکت کی پیداوارمیں قریباً نوّے لاکھ بیرل یومیہ ہوگی۔

سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ رضاکارانہ کٹوتی اوپیک پلس ممالک کی طرف سے کی جانے والی احتیاطی کوششوں کو تقویت دینے کے لیے ہے جس کا مقصد تیل کی منڈیوں کے استحکام اور توازن کی حمایت کرنا ہے۔یہ کٹوتی جولائی سے نافذالعمل ہوئی تھی۔

ایس پی اے نے مزید کہا کہ ’’سعودی عرب جولائی میں نافذ العمل ہونے والی 10 لاکھ بیرل یومیہ کی رضاکارانہ کٹوتی میں مزید ایک ماہ کی توسیع کرے گا جس میں اگست کا مہینہ بھی شامل ہوگا اور اس کے نتیجے میں اگست 2023 کے لیے مملکت کی پیداوار قریباً نوّے لاکھ بیرل یومیہ ہوگی‘‘۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ یہ کٹوتی اپریل 2023 میں مملکت کی طرف سے اعلان کردہ رضاکارانہ کٹوتی کے علاوہ ہے ، جو دسمبر 2024 کے آخر تک جاری رہے گی۔

جون میں سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے العربیہ کو بتایا تھا کہ سعودی عرب اوپیک پلس اجلاس کے بعد جولائی میں پیداوار میں کٹوتی کرے گا۔انھوں نے کہا تھا کہ ضرورت پڑنے پر الریاض کی جانب سے یومیہ 10 لاکھ بیرل تیل کی کٹوتی کو جولائی کے بعد بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔

سعودی عرب نے اوپیک پلس میں شامل دیگر تیل پیداکنندگان ممالک کے ساتھ مل کر اپریل میں اعلان کیا تھا کہ وہ دسمبر 2024 تک اپنی یومیہ پیداوار میں کٹوتی جاری رکھیں گے۔

اوپیک پلس سعودی عرب کی قیادت میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم (اوپیک) اور روس کی سربراہی میں اتحادیوں پر مشتمل ہے۔اس میں شامل ممالک دنیا کا قریباً 40 فی صد خام تیل پیدا کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں