چین روسی بحریہ کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے: وزیر دفاع

ماسکو اور بیجنگ کو علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین کے وزیردفاع نے روس کے ساتھ بحریہ کے شعبے میں تعاون کو وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے اس کا اظہار گذشتہ ماہ روس میں ناکام بغاوت کے بعد دونوں ممالک کے فوجی حکام کے درمیان اعلیٰ سطح پر پہلے سرکاری مذاکرات کے دوران میں کیا ہے۔

چینی وزارت دفاع کی جانب سے جاری بیان کے مطابق لی شانگ فو نے بیجنگ میں روسی بحریہ کے سربراہ نکولائی یوف مینوف سے بات چیت کی اور کہا کہ انھیں امید ہے کہ دونوں ممالک ’’ہر سطح پر روابط کو مضبوط کر سکتے ہیں‘‘۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں ممالک کو باقاعدگی سے مشترکہ مشقوں، مشترکہ کروز اور مشترکہ فوجی مہارتوں کے مقابلوں کا انعقاد کرنا چاہیے اور ساتھ ہی پیشہ ورانہ شعبوں میں عملی تعاون کو بڑھانا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ ماسکو اور بیجنگ کو علاقائی اور عالمی امن و استحکام کو برقرار رکھنے میں مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔یوف مینوف نے کہا کہ دونوں ممالک کی بحری افواج کے درمیان تمام سطحوں پر تبادلوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور ان کے درمیان تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہیے۔

روس میں واگنر گروپ کی بغاوت کے بعد چین اور روس کے فوجی حکام کے درمیان اعلیٰ سطح پر یہ پہلا رابطہ ہے۔بیجنگ کا کہنا ہے کہ وہ بغاوت کے بعد 'قومی استحکام کے تحفظ' میں روس کی حمایت کرتا ہے لیکن صدر شی جِن پنگ نے ابھی تک اس واقعے پر صدر ولادی میر پوتین کے ساتھ بات چیت نہیں کی ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کی جنگ میں ایک غیر جانبدار فریق ہے لیکن اس نے مغربی ممالک کے مطالبے پر ماسکو کی مذمت سے انکار کیا ہے اور روس کے ساتھ اس کے تعلقات پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔

دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں اقتصادی تعاون اور سفارتی روابط میں اضافہ کیا ہے اور گذشتہ سال ماسکو کے یوکرین پر حملے کے بعد سے ان کے درمیان تزویراتی شراکت داری میں اضافہ ہوا ہے۔دونوں ممالک کی افواج اکثر مشترکہ مشقیں کرتی رہتی ہیں۔

روس کی مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف ولیری گیراسیموف نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ ان کے ملک کی چین کے ساتھ مضبوط فوجی شراکت داری نے دنیا بھرمیں استحکام کوفروغ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں