گھپ اندھیرا،موسیقی اورسمندری حیات.."ٹائٹن" آبدوزکےمسافروں نےاپنےآخری لمحات کیسےگزارے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ٹائٹن آبدوز میں ہلاک ہونے والے شہزادہ داؤد کی اہلیہ نے انکشاف کیا ہے کہ ٹائٹن آبدوز میں سوار پانچ مسافروں نے ممکنہ طور پر اپنے آخری لمحات مکمل اندھیرے میں موسیقی سننے اور سمندر کی گہرائی میں موجود سمندری مخلوق کو دیکھنے میں گزارے۔

کرسٹین داؤد، شہزادہ داؤد کی اہلیہ اور آبدوز پر سوار سلیمان کی والدہ نے اس سفر کی لیے کی جانے والی تیاریوں سے متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس سفر کا اہتمام کرنے والی کمپنی نے مسافروں کو ہدایت کی تھی کہ وہ موٹے موزے اور ٹوپی پہنیں تاکہ گہرائی میں سردی سے بچا جا سکے اور کافی سے اجتناب کرتے ہوئے مخصوص خوراک استعمال کریں۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، مسافروں سے یہ بھی کہا گیا کہ وہ اپنے فون پر اپنی پسندیدہ موسیقی ڈاؤن لوڈ کریں جسے وہ دوران سفر بلوٹوتھ اسپیکر کے ذریعے سن سکیں۔

کرسٹین داؤد نے بتایا کہ انہیں اوشین گیٹ فلائٹ سوٹ، واٹر پروف ٹراؤزر، نارنجی رنگ کی واٹر پروف جیکٹ، اسٹیل کے جوتے، لائف جیکٹس اور ہیلمٹ بھی دیے گئے ۔

اوشین جیٹ ایکسپیڈیشنز کے بانی اور سی ای او اسٹاکٹن رش نے انہیں مطلع کیا تھا کہ لینڈنگ بالکل تاریکی میں ہوگی کیونکہ جب وہ سمندر کی تہہ تک پہنچیں گے تو بیٹری کی طاقت بچانے کے لیے ہیڈلائٹس بند ہوں گی۔

تاہم، انہیں بتایا گیا کہ وہ مکمل تاریکی سے پہلے سمندری بایولومینسینٹ مخلوقات کو دیکھ پائیں گے۔

"میرے شوہر پرجوش تھے۔"

کرسٹین داؤد نے کہا کہ ان کے شوہر بہت متجسس شخصیت تھے اور وہ اس تفریحی سفر کے لیے "چھوٹے بچے کی طرح" پر جوش تھے۔

کرسٹین داؤد نے کہا کہ وہ جہاز میں سوار افراد کی پیشہ ورانہ مہارت سے بہت متاثر ہوئیں۔ کمپنی کی طرف سے عملے کو دی گئی بریفنگ سے ظاہر ہوتا تھا کہ یہ "اچھی طرح تیاری والا آپریشن" تھا۔

"آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ پہلے بھی کئی بار ایسا کر چکے ہیں،" انہوں نے کہا


جب رابطہ منقطع ہوگیا

کرسٹین ٹائٹن کو چلانے والے امدادی بحری جہاز پر سوار تھیں اور اس وقت تک وہیں رہیں جب لاپتہ ہونے کے پانچ دن بعد آبدوز کے دھماکے سے پھٹنے کی تصدیق ہوئی۔

جہاز پر کرسٹین داؤد نے کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ٹائٹن کے ساتھ رابطہ منقطع ہو گیا ہے، تو وہ اس مقام پر گئیں جہاں ٹیم آبدوز کی نگرانی کر رہی تھی، اور انہیں تسلی دی گئی کہ فکر نہ کریں۔

انہیں بتایا گیا کہ اگر کوئی مسئلہ ہوا تو مشن کو روک دیا جائے گا اور آبدوز وزن کم کر دے گی۔

پھر کسی نے انہیں بتایا کہ وہ نہیں جانتے کہ ٹائٹن کہاں ہے۔

انہوں نے کہا، "میں سمندر کی طرف دیکھتی رہتی تھی، کہ شاید میں انہیں سطح پر تیرتے دیکھ سکوں،"

ٹائٹن، جسے امریکہ میں قائم کمپنی اوشین جیٹ ایکسپیڈیشنز کے ذریعے تیار کیا گیا اپنے سفر سے تقریباً ایک گھنٹہ 45 منٹ کے بعد اس کا امدادی جہاز سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

آبدوز پر باپ اور بیٹا شہزادہ اور سلیمان داؤد، برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی سب پائلٹ پال ہنری نارجیولیٹ اور اسٹاکٹن رش، کمپنی اوشین گیٹ کے چیف ایگزیکٹو جو آبدوز کی مالک تھی، اس وقت ہلاک ہو گئے تھے جب یہ تباہ کن دھماکے کا شکار ہو گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں