ترک صدر نے فرانس میں ’ادارہ جاتی نسل پرستی‘ اوراسلام فوبیاکو فسادات کا سبب قراردے دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

جمہوریہ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے فرانس میں ہونے والے فسادات کا ذمے دار 'ادارہ جاتی نسل پرستی'، 'اسلاموفوبیا‘ اور اس ملک کے نوآبادیاتی ماضی کو قرار دیا ہے۔

فرانس میں گذشتہ منگل کو الجزائر سے تعلق رکھنے والے 17 سالہ لڑکے کی پولیس کی فائرنگ سے ہلاکت کے بعد سے ملک گیراحتجاج اور فسادات جاری ہیں۔

ترک صدر طیب ایردوآن نے کہا کہ ’’خاص طور پر ان ممالک میں، جو اپنے نوآبادیاتی ماضی کے لیے جانے جاتے ہیں، ثقافتی نسل پرستی ادارہ جاتی نسل پرستی میں تبدیل ہو چکی ہے‘‘۔

انھوں نے کہا:’’فرانس میں شروع ہونے والے واقعات کی جڑ اس ذہنیت کی بنیاد پر تعمیرکردہ سماجی ڈھانچا ہے،جن تارکین وطن کو الگ تھلگ بستیوں میں رہنے پرمجبورکیا جاتا ہے اورجن پر منظم طریقے سے ظلم کیا جاتا ہے، ان میں سے زیادہ تر مسلمان ہیں‘‘۔

ترک صدر نے مزید کہا:’’بدقسمتی سے تشدد نے تشدد کو جنم دیا اور آج یہ واقعات رونما ہورہے ہیں۔انھوں نے فرانسیسی حکام کو خبردار کیا کہ وہ اس کا نوٹس لیں کیونکہ سڑکیں انصاف کے حصول کا ذریعہ نہیں بن سکتیں۔ تاہم، یہ واضح ہے کہ حکام کو سماجی دھماکے سے بھی سیکھنا چاہیے‘‘۔

فرانس میں بدامنی، جس میں پسماندہ برادریوں میں حد سے زیادہ پولیس کاری کے الزامات بھی شامل ہیں، کے نتیجے میں متعدد شہروں میں مظاہروں پر پابندی، ٹریول ایڈوائزری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں نسلی تعصب پر نئے دلائل سامنے آئے ہیں۔

فرانس میں ان ہنگامہ خیز فسادات میں مظاہرین نے کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی، عمارتوں میں توڑ پھوڑ کی اور پولیس کے ساتھ پرتشدد جھڑپیں کیں۔ اس بحران نے صدرعمانوایل ماکرون کو ایک ہنگامی وزارتی اجلاس بلانے پر مجبور کیا جبکہ وہ اپنی دوسری مدتِ صدارت میں معاشرتی ٹوٹ پھوٹ کو دور کرنے اور قوم کو متحد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر 'پولیس کا قتل' کے نعرے درج تھے۔مظاہروں کے دوران میں متعدد سرکاری ڈھانچوں کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور یہ غیظ وغضب نسلی تعصب پر پائی جانے والی ناراضی کی عکاسی کرتا ہے۔

فرانس اور اس کے سمندر پار علاقوں میں بڑے پیمانے پر تشدد کی وجہ سے فرانسیسی حکام نے ملک بھر میں 40،000 سے زیادہ پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا ہے، ہزاروں افراد کو گرفتار کیاگیا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سینکڑوں اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں