شام میں شدت پسندوں کے کیمپوں سے 10 خواتین اور 25 بچوں کی فرانس واپسی

فرانس نے مقامی کرد انتظامیہ کے تعاون پر شکریہ ادا کیا "جس نے یہ عمل ممکن بنایا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

فرانس نے شام میں مشتبہ اسلامی شدت پسندوں کے کیمپوں میں قید درجنوں خواتین اور بچوں کو وطن واپس بھیج بلا لیا ہے۔

وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ 10 خواتین اور 25 بچے جو شمال مشرقی شام میں عسکریت پسندوں اور ان کے خاندانوں کے افراد کے کیمپوں میں رکھے گئے تھے، ایک سال میں اپنی نوعیت کے چوتھے آپریشن میں منگل کو فرانس پہنچے۔

وزارت نے کہا کہ بچوں کو نگہداشت کی خدمات کے حوالے کر دیا جائے گا، جبکہ بڑوں کو متعلقہ عدالتی حکام کی تحویل میں منتقل کر دیا جائے گا۔

فرانسیسی خواتین نے رضاکارانہ طور پر شام اور عراق میں داعش کے زیر قبضہ علاقوں کا سفر کیا تھا اور بعد میں جب شدت پسندوں کو ان علاقوں سے بے دخل کر دیا گیا تو انہیں پکڑ لیا گیا۔

60 سے زائد قومیتوں کے انتہا پسند خاندانوں کے افراد سمیت ہزاروں افراد کو شمال مشرقی شام میں کردوں کے زیر انتظام الہول اور روج کیمپوں اور عراقی جیلوں میں قید رکھا گیا ہے۔

ان کیمپوں سے اپنے شہریوں کی سست واپسی پر بین الاقوامی اداروں کی طرف سے فرانس کی مذمت کی گئی ہے۔

2022 کے موسم گرما میں پہلے آپریشن کے دوران 16 خواتین اور 35 بچوں کو فرانس واپس لایا گیا، اس کے بعد اکتوبر میں دوسری کھیپ لائی گئی جس میں 15 خواتین اور 40 بچے شامل تھے۔

گزشتہ جنوری میں، وزارت خارجہ نے 15 خواتین اور 32 بچوں کی واپسی کا اعلان کیا تھا۔

وزارت خارجہ نے منگل کو ایک بیان میں کہا، "فرانس نے شمال مشرقی شام میں کرد انتظامیہ کے تعاون پر شکریہ ادا کیا جس نے یہ عمل ممکن بنایا۔"

حملوں کا خوف

ان کیمپوں میں قیدیوں کی واپسی بہت سے ممالک، خاص طور پر فرانس میں ایک حساس مسئلہ ہے، خاص طور پر اس لیے بھی کہ یہ ملک 2015 میں شدت پسندانہ حملوں کا مرکز تھا، جن کی منصوبہ بندی داعش نے کی تھی۔

2022 کے موسم گرما تک، فرانس نے کیس کے مطابق واپسی کی پالیسی اپنائی تھی، جس میں ان یتیم بچوں یا نابالغوں کی واپسی پر توجہ مرکوز کی گئی تھی جن کی مائیں ان پر اپنے حقوق سے دستبردار ہونے پر راضی تھیں۔

اس پالیسی کے تحت، پیرس صرف 30 کے قریب یتیموں کو وطن واپس لایا تھا، جن میں سے آخری 2021 کے اوائل میں فرانس واپس آئے تھے۔

شامی کرد انتظامیہ کے بار بار مطالبات کے باوجود، فرانس کی طرح بہت سے مغربی ممالک نے اپنی سرزمین پر دہشت گردانہ کارروائیوں کے اندیشے کے پیش نظر کیمپوں سے اپنے شہریوں کو واپس لانے کے لیے طویل عرصے سے متذبذب ہیں۔

مارچ کے اوائل میں، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے شام کے الہول کیمپ میں زیر حراست خاندانوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے اسے "دنیا کا بدترین کیمپ" قرار دیا۔

فرانسیسی وزارت خارجہ شام میں قید فرانسیسی خواتین اور بچوں کی تعداد کا اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔

شمال مشرقی شام کے کیمپوں میں زیر حراست خواتین اور بچوں کے خاندانوں کی وکیل میری ڈوزیئر نے کہا، "ان کیمپوں میں اب بھی تقریباً 100 بچے ہیں جو صرف مٹی، خاردار تاریں اور تشدد سے واقف ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں