قرآن مجید کی بےحرمتی سے سویڈن کی نیٹو رکنیت کی اہلیت پر شکوک پیدا ہوگئے: ترکیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکیہ کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ سویڈش حکام کی جانب سے ملک میں قرآن مجید کو نذر آتش کرنے والے مظاہروں کو روکنے میں ناکامی سے سلامتی کے خدشات بڑھ رہے ہیں اور سویڈن کی نیٹو کی ممکنہ رکنیت کے لیے ساکھ پرسوالات پیدا ہورہے ہیں۔

حقان فیدان نے کہا کہ اگر اسٹاک ہوم اپنا ہوم ورک مکمل کر لیتا ہے اور ترکیہ کے خدشات کو دور کرنے کی کوششیں جاری رکھتا ہے تو وہ فوجی اتحاد میں سویڈن کی رکنیت کی منظوری دینے کو تیار ہے۔

انھوں نے منگل کے روز اردنی ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا:’’حقیقت یہ ہے کہ سویڈش سکیورٹی سسٹم اشتعال انگیزی کو روکنے سے قاصر رہا ہے اور ایک ایسے ملک کی تصویر پیش کر رہا ہے جو نیٹو کے لیے زیادہ طاقت کے بجائے مسائل پیدا کرتا ہے۔ہمیں تزویراتی اور سکیورٹی پہلوؤں کے حوالے سے سوچنے پر مجبور کر رہا ہے‘‘۔

انھوں نے کہا:’’جب نیٹو میں سویڈن کی رکنیت کی بات آتی ہے، توسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا یہ ایک بوجھ بن جائے گا یا اس سے فائدہ ہوگا، اس پر بحث زیادہ کھلی ہو گئی ہے‘‘۔

سویڈن اور فن لینڈ نے اپنی دہائیوں پرانی غیر جانبداری کو ترک کرتے ہوئے گذشتہ سال یوکرین پر روس کے حملے کے بعد نیٹو میں شمولیت کی درخواست دی تھی۔

ترکیہ اس اتحاد میں سویڈن کی رکنیت کی توثیق سے انکاری ہے اور اس پرالزام عاید کرتا رہا ہے کہ سویڈن ان گروہوں کے ساتھ بہت نرم رویہ رکھتا ہے جنھیں انقرہ اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے، جن میں کرد عسکریت پسند اور ایک نیٹ ورک کے ارکان بھی شامل ہیں جن پر انقرہ 2016 میں ناکام بغاوت کا الزام عاید کرتاہے۔

انقرہ سویڈن میں کالعدم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے حامیوں کی جانب سے کیے جانے والے مظاہروں کے ساتھ ساتھ قرآن کو نذرآتش کرنے والے مظاہروں پر بھی برہم ہے۔اس میں گذشتہ ہفتے عیدالاضحیٰ کے موقع پر ہونے والے مظاہرے بھی شامل ہیں جن کی مسلم ممالک نے مذمت کی تھی۔

پی کے کے نے گذشتہ 38 سال سے ترکیہ کے خلاف مسلح بغاوت برپا کررکھی ہے۔اس میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اسے امریکا اور یورپی یونین نے دہشت گرد تنظیم قراردے رکھا ہے۔

نیٹو اتحاد11 اور 12 جولائی کو لیتھوانیا میں سربراہ اجلاس تک سویڈن کو اپنی صف میں لانا چاہتا ہے اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے سویڈن کی رکنیت پر ترکیہ کے اعتراضات پرغور اور ان کے خاتمے کے لیے ترکیہ، سویڈن اور فن لینڈ کے سینیر حکام کا اجلاس 6 جولائی کو طلب کیا ہے۔

نیٹو کی توسیع کے لیے تمام موجودہ ارکان کی متفقہ منظوری کی ضرورت ہے۔ ترکیہ اور ہنگری نے ابھی تک سویڈن کی سویڈن کی رکنیت کی درخواست کی توثیق نہیں کی ہے۔سویڈن نے رُکنیت کے لیے درخواست دینے کے بعد انسداد دہشت گردی کے قانون میں تبدیلی کی ہے۔ ترکیہ کے سابق انٹیلی جنس چیف فیدان، جنھیں گذشتہ ماہ وزیر خارجہ مقرر کیا گیا تھا، کا کہنا تھا کہ دہشت گرد گروہ سویڈن میں مظاہرے جاری رکھنے،رقوم جمع کرنے اور ارکان بھرتی کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

فیدان نے کہا:’’اگر سویڈن اپنی کوششیں جاری رکھتا ہے اور اپنا ہوم ورک کرتا ہے، تو ہمیشہ متبادل موجود ہیں، جیسا کہ فن لینڈ کے معاملے میں تھا‘‘۔ وہ گذشتہ سال سویڈن اور فن لینڈ کی جانب سے ترکیہ کے ساتھ دست خط شدہ ایک یادداشت کا حوالہ دے رہے تھے جس کے تحت انھوں نے انقرہ کے خدشات کو دور کرنے پر اتفاق کیا تھا۔

فن لینڈ اس سال کے اوائل میں اتحاد میں شامل ہونے میں کامیاب ہوا تھا ، جب ترکیہ نے اپنے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے اس کی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا تھا اور ترک پارلیمنٹ نے اس کی رکنیت کی توثیق کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں