ایران کی آبنائے ہرمز کے قریب دو آئل ٹینکروں پر قبضے کی کوشش،ایک پر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی بحریہ نے اطلاع دی ہے کہ ایرانی فورسز نے بدھ کو علی الصباح آبنائے ہرمز کے قریب دو آئل ٹینکروں کو قبضے میں لینے کی کوشش کی اور ان میں سے ایک پر فائرنگ کی ہے۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ دونوں واقعات میں امریکی بحریہ کی جوابی کارروائی کے بعد ایرانی بحری جہاز پیچھے ہٹ گئے اور دونوں تجارتی جہازوں نے اپنا سفر جاری رکھا ہے۔

امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ترجمان ڈاکٹر ٹم ہاکنز نے کہا کہ ایرانی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں قانونی طور پر گذرنے والے تجارتی آئل ٹینکروں پر قبضے کی کوشش کی تھی لیکن امریکی بحریہ نے فوری جوابی کارروائی کی اور ایرانی بحریہ کو تیل بردار جہاز قبضے میں نہیں لینے دیے۔

انھوں نے کہا کہ دوسرے بحری جہاز پر ہونے والی فائرنگ سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ان واقعات پر فوری طور پر ایران کی جانب سے کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا۔

میری ٹائم انٹیلی جنس سروس امبری کا کہنا ہے کہ جس ٹینکر پر فائرنگ کی گئی، وہ بہاماس کا پرچم بردار اور یونان کا ملکیتی امریکی تیل بردار ٹینکر تھا۔وہ متحدہ عرب امارات سے سنگاپور جا رہا تھا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فائرنگ عُمان کے دارالحکومت مسقط سے 28 ناٹیکل میل شمال مشرق میں کی گئی ہے۔

امریکی بحریہ کا کہنا ہے کہ ایران نے گذشتہ دو سال میں کم سے کم پانچ تجارتی بحری جہازوں پر قبضہ کیا ہے اور متعدد کو ہراساں کیا ہے۔ بہت سے واقعات آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس پیش آئے ہیں۔ یہ خلیج کا تنگ دہانہ ہے جہاں سے دنیا کے تمام خام تیل کا 20 فی صد ہوکرگذرتا ہے۔

اپریل میں ایرانی بحریہ کے نقاب پوش کمانڈوز نے خلیج عُمان میں امریکا جانے والے ایک آئل ٹینکر کو پکڑنے کے لیے ہیلی کاپٹر کے ذریعے چھاپا مار کارروائی کی تھی۔اس کی فوٹیج ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر کی گئی تھی۔ ایران کا کہنا ہے کہ ٹینکر کو ایک اور ایرانی بحری جہاز سے ٹکرانے کے بعد قبضے میں لے لیا گیا تھا تاہم اس نے اپنے دعوے کے حق میں کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا تھا۔

ماضی میں، ایران نے ضبط کیے گئے بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو مغرب کے ساتھ سودے بازی کے آلے کے طور پر استعمال کیا ہے اور ان کے بدلے میں مغرب سے مالی رعایتیں حاصل کی ہیں یا اپنے مطالبات منوائے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں