بھارت:وائرل ویڈیومیں قبائلی رکن پر پیشاب کرنے والے ملزم کا گھر مسمار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بھارت کی وسطی ریاست مدھیہ پردیش میں حکام نے قبائلی برادری کے ایک رکن پر سرعام پیشاب کرنے والے شخص کا بدھ کے روز گھر مسمار کر دیا ہے۔

سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں پرویش شکلا کو ایک اندھیری گلی میں ایک نوعمر لڑکے پر پیشاب کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔اس وقت وہ سگریٹ کے کش لگا رہا تھا اور لڑکے کے سر اور چہرے پرمُوت کررہا تھا۔

مدھیہ پردیش میں واقع وسطی قبائلی ضلع سیدھی میں اس نے یہ شرم ناک اور انسانیت سے گری ہوئی حرکت گذشتہ سال کی تھی لیکن یہ واقعہ اس ہفتے ہی عوام کی توجہ کا مرکز بنا جب اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم شکلا کو اس حملے کے سلسلے میں گرفتار کرلیا گیا ہے اوراس پر فرد جرم عاید کی گئی ہے۔اس نیچ حرکت پر اس کو جرمانے کے علاوہ ایک سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

پولیس افسر رویندر ورما نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ حکام نے اس کا گھر منہدم کر دیا ہے کیونکہ اس نے غیرقانونی طور پرتعمیر کیا تھا۔ مقامی میڈیا نے ضلع سیدھی میں واقع شکلا کے گھر کی چھت اور دیواروں پر ایک بلڈوزر چلاتے ہوئے دکھایا ہے۔

واضح رہے کہ بھارت میں 10 کروڑ سے زیادہ لوگوں کا تعلق اس کی متنوع مقامی آدیواسی برادریوں سے ہے۔انھیں اجتماعی طور پر آدیواسیوں کے نام سے جانا جاتا ہے۔انھیں ہندو مت کی ذات پات کی سخت درجہ بندی میں سب سے نچلے درجے پرشمار کیا جاتا ہے۔آدیواسیوں کو صدیوں سے اونچے درجے کے ہندوؤں کے تشدد، تعصب اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

بھارت میں حالیہ برسوں کے دوران میں ایسے متعدد واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں جن میں حکام نے مشتبہ مجرموں کے گھروں کو کھدائی کرنے والی مشینوں سے مسمار کردیا ہے اور اس طرح انھیں انسانیت سوز حرکت پر سزا دی ہے۔

تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں نے 'بلڈوزر انصاف' کی مذمت کرتے ہوئے اسے بھارت کی ہندو قوم پرست حکومت کی جانب سے اجتماعی سزا دینے کا غیر قانونی عمل قراردیا ہے۔اس کے ذریعے ملک کی مسلم اقلیت کو بالخصوص غیر متناسب طور پر نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں