چیچنیا میں حملے میں زخمی روسی صحافیہ ماسکومیں زیرعلاج، حالت ’مشکل‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کی ایوارڈ یافتہ تحقیقاتی صحافیہ ایلینا میلاشینا دارالحکومت ماسکو کے ایک اسپتال میں 'مشکل' حالت میں زیرعلاج ہیں۔انھیں چیچنیا میں بری طرح مارا پیٹا گیا تھا۔

آزادیِ صحافت اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے میلاشینا پرتشدد آمیز حملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔انھیں روس کے جنوبی شورش زدہ علاقے میں ایک وکیل کے ہمراہ سفر کے دوران میں بندوق کے بٹ سے مارا پیٹا گیا،ان کی انگلیاں توڑ دی گئیں اور حراست میں رکھا گیا۔

میلاشینا وہاں سے واپسی کے بعد ماسکو کے اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ ان کے اخبار نووایا گازیٹا کے مدیر دمتری مراتوف نے روسی دارالحکومت میں صحافیوں کو بتایا کہ ان کی حالت ’’بہت مشکل‘‘ ہے۔

اس ہفتے اس واقعے کے بعد نووایا گزیٹا نے ایک ویڈیو جاری کی۔اس میں میلاشینا اسپتال میں بستر پر پڑی ہیں۔ان کا سر مونڈھا ہوا ہے اور ان کے ہاتھوں پر پٹیاں بندھی ہوئی ہیں۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے ان کا سر مونڈھ دیا اور ان پر سبز رنگ کا سپرے کر دیا تھا۔کریملن اور چیچنیا کے طاقتور رہ نما رمضان قدیروف نے کہا ہے کہ حملے کے ذمہ داروں کی نشان دہی کی جانی چاہیے۔

مراتوف نے بدھ کے روز کہا کہ ’’میلاشینا کی انگلیاں ٹوٹ گئی ہیں اور حملہ آوروں نے ان کے فون تک رسائی کا مطالبہ کیا تھا۔ان کی حالت وہی ہے جس کی آپ توقع کر سکتے ہیں‘‘۔

میلاشینا نے اپنی رپورٹس میں چیچنیا میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا احاطہ کیا ہے۔قفقاز میں واقع اس جمہوریہ پر سابق جنگجو رہ نما رمضان قدیروف کی حکومت ہے۔

یادرہے کہ سنہ 2000 کے بعد سے روسی اخبار نووایا گزیٹا سے وابستہ چھے صحافیوں اور معاونین کو قتل کیا جا چکا ہے۔ان میں تفتیشی رپورٹر اینا پولٹکوفسکایا بھی شامل ہیں۔انھیں ماسکو میں صدر ولادی میرپوتین کی سالگرہ کے موقع پر گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں