کینیڈا میں انٹری ویزے کو امیگریشن ویزے کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کینیڈا ایک نیا انٹری ویزا متعارف کرانے کا ارادہ رکھتا ہے جو اس کے حاملین کو امیگریشن، کینیڈا منتقل ہونے اور اس میں مکمل طور پر رہائش اختیار کرنے کے قابل بنا سکتا ہے۔

کینیڈین حکام نے یہ تجویز کردہ آئیڈیا کرونا کی وبا کے دور سے اخذ کیا تھا، جس کی وجہ سے دنیا میں بنیادی اور بڑی تبدیلیاں آئیں۔

برطانوی اخبار’میٹرو‘ کی طرف سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کے مطالعے سے گذری ہے۔ رپورٹ کے مطابق کینیڈین حکام ان لوگوں کے لیے خصوصی ویزہ متعارف کروانے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ لوگ جو ایک مقررہ ملازمت میں دور سے کام کرتے ہیں۔ جو کام کا وہ طریقہ ہے جسے "کرونا" کے دور میں دنیا بھر میں آزمایا گیا۔

یہ ویزا اس کے ہولڈر کو کینیڈا جانے اور اس میں رہنے کی اجازت دیتا ہے، بشرطیکہ اس کے پاس کینیڈا سے باہر کی کسی غیر ملکی کمپنی میں مستقل ملازمت ہو اور وہ جو کام کر رہا ہے اسے "ریموٹ ورک" سسٹم کے ذریعے انجام دیا جائے۔

برطانوی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کینیڈا اس نظام کو اپنانے والا پہلا ملک نہیں ہے اور نہ ہی یہ دنیا کا واحد ملک ہے کیونکہ یہ ویزا اسپین اور اٹلی میں موجود ہے اور اس کا مقصد وہاں رہنے کے خواہشمند افراد کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے۔

کینیڈا کی مخصوص اسکیم کی تفصیلات کا ابھی تک اعلان نہیں کیا گیا ہےاور نہ ہی یہ معلوم ہوا ہے کہ یہ ویزہ کون کون سی ملازمتوں کے لیے کارآمد ہوسکتا ہے۔

اٹلی میں مثال کے طور پر ایک انٹروی ویزا ہے جسے ’nomadi digitali‘ کہا جاتا ہے۔ اس کا مقصد ان لوگوں کے لیے ہے "جو تکنیکی آلات کے استعمال کے ذریعے کام کی سرگرمیاں انجام دیتے ہیں۔

اس قسم کے ویزا کا مقصد دور دراز کے کارکنوں کو کینیڈا جانے کی ترغیب دینا ہے، جہاں وہ وہاں رہنے کا تجربہ کر سکتے ہیں اور اگر وہ چاہیں تو مستقل طور پر وہاں رہنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں