روس اور یوکرین

جوابی حملہ کا آغاز تیز کرنے کے لیے مغربی ہتھیار حاصل کرنے کی سعی کی: زیلنسکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا ہے میں جون میں روسی افواج کے خلاف جوابی کارروائی شروع کرنا چاہتا تھا، اسی بناپر مغربی اتحادیوں پر زور دیا تھا کہ وہ اس کے لیے ہتھیاروں کی فراہمی کو تیز کر دیں۔

زیلنسکی نے مزید کہا کہ میں چاہتا تھا کہ ہمارا جوابی حملہ بہت پہلے ہو کیونکہ سب کو معلوم تھا کہ اگر جوابی حملہ بعد میں ہوا تو ہمارے علاقے کے ایک بڑے حصے پر حملہ کردیا جائے گا۔ اس اس ہم اپنے دشمن کو مزید مواقع فراہم کریں گے کہ وہ ان علاقوں میں بارودی سرنگیں لگائیں اور اس دوران اپنی دفاعی لائن مضبوط کرلے۔ زیلنسکی نے ان خیالات کا اظہار اانہوں نے سی این این کو ایک انٹرویو میں کیا۔

یو کرینی صدر نے مزید کہا کہ میدان جنگ کی مشکلات نے یوکرینی افواج کی جوابی کارروائی کی رفتار کو سست کر دیا۔ اس جوابی کارروائی کا مقصد فروری 2022 سے مشرق اور جنوب میں روس کے زیر قبضہ علاقوں پر دوبارہ قبضہ کرنا ہے۔

باخموت کے قریب یوکرینی فوجی
باخموت کے قریب یوکرینی فوجی

مزید برآں زیلنسکی نے بار بار امریکہ اور مغربی اتحادیوں پر زور دیا ہے کہ وہ یو کرینی افواج کو مزید جدید ہتھیار فراہم کریں۔ جیسا کہ امریکی ساختہ ’’ ایف سولہ ‘‘ لڑاکا طیارے اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل فراہم کیے جائیں۔ انہوں نے امریکہ اور یورپی اتحادیوں کی حمایت پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے یوکرین کو فضاؤں میں روس پر برتری حاصل نہیں ہوجائے گی تاہم ایف سولہ طیارے ملنے سے یوکرینی فضائی افواج کو روس پر برابری حاصل ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا ایف سولہ صرف میدان جنگ میں فوجیوں کو آگے بڑھنے میں مدد نہیں کرتے بلکہ فضائی احاطہ فراہم کرتے ہیں۔

زیلنسکی نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ جوابی حملہ ہماری مرضی سے سست تھا۔ انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں اور کہا ک تمام سمتوں میں پیش رفت ہوئی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ روس کے صدر پوتین 24 جون کو ایوگنی پریگوزن کی سربراہی میں واگنر پرائیویٹ ملٹری گروپ کے کرائے کے فوجیوں کی جانب سے مختصر مدت کی بغاوت کے بعد اپنی طاقت کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے۔

یوکرینی فوج
یوکرینی فوج

زیلینسکی نے پوچھا کہ ان تمام واقعات کے بعد پوٹین کہاں گئے؟ وہ شاذ و نادر ہی گلیوں میں نکلتے ہیں۔ ہم اسے اپنے دفاتر میں دیکھتے ہیں لیکن ہم اسے کبھی باہر نہیں دیکھتے۔ یاد رہے بغاوت کے دنوں کے بعد پوٹین ماسکو کے کریملن کمپلیکس کے ایک چوک میں ایک تقریب کے دوران 25 سو روسی سیکورٹی اہلکاروں سے خطاب کرنے کے لیے عوام میں نمودار ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں