شامی فضائی حدود میں روسی لڑاکا طیاروں کی امریکی ڈرونز کا راستہ روکنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ مہینے امریکہ نے لینگلے ایئر فورس بیس سے F-22 ریپٹرز مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے تھے۔ اس کی وجہ خطے میں روسی طیاروں کا بڑھتا کی غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ رویہ تھا۔

امریکی فوج نے بدھ کو بتایا کہ شام میں داعش مخالف مشن پر روسی لڑاکا طیاروں نے امریکی طیاروں کا راستہ روکا اور انہیں ہراساں کیا۔

مشرق وسطیٰ میں فضائی کارروائیوں کے ذمہ دار امریکی جنرل، لیفٹیننٹ جنرل الیکس گرینکیوچ نے کہا، "قبل ازیں، آج صبح تقریباً 10:40 بجے روسی فوجی طیارے شام میں امریکی طیاروں کے ساتھ باہمی ابلاغ کے دوران غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ رویے میں مصروف تھے۔"

لیفٹیننٹ جنرل گرینکیوچ کے مطابق، تین امریکی MQ-9 ڈرون داعش کے ٹھکانوں کے خلاف مشن پر تھے، اس دوران تین روسی لڑاکا طیاروں نے امریکی ڈرونز کے مشن کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں۔ روسی جیٹ طیاروں نے امریکی ڈرونز کے سامنے متعدد پیراشوٹ شعلے چھوڑے، جس کی بنا پر امریکی طیارے کو دفاعی اور جوابی کارروائی کرنا پڑی۔ اس کے بعد ایک روسی پائلٹ نے اپنے طیارے کو MQ-9 کے سامنے لا کر آفٹر برنر کو انگیج کر دیا، جس سے امریکی ڈرون کے لیے محفوظ طریقے سے آپریٹ کرنا مشکل ہو گیا۔

"یہ واقعات شام میں آپریٹ کرنے والی روسی فضائیہ کے غیر پیشہ ورانہ اور غیر محفوظ اقدامات کی ایک اور مثال پیش کرتے ہیں، جو امریکی اور روسی افواج دونوں کی سلامتی اور تحفظ کے لئے خطرے کا باعث ہے،" لیفٹیننٹ جنرل گرینکیوچ نے کہا۔ انہوں نے شام میں روسی افواج پر زور دیا کہ وہ اپنے "لا پرواہ رویے" سے باز آئیں اور ان معیارات پر پورا اتریں جن کی ایک پیشہ ورانہ فضائیہ سے توقع کی جاتی ہے" تاکہ ہم داعش کی دیرپا شکست پر اپنی توجہ دوبارہ مرکوز کر سکیں۔"

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ، جنرل ایرک کیوریلا نے مسلسل غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ رویے پر روس کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا، "فضائی حدود کے تصادم کے خاتمے سے متعلق جن اقدامات پر اتفاق رائے ہوا ہے، ان کی باقاعدگی سے ہونے والی خلاف ورزی کی وجہ سے شدت میں اضافے کا اور افواج کے مابین حساب کتاب کی غلطی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔"

گزشتہ مہینے، خطے میں روسی طیاروں کے بڑھتے ہوئے غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ رویے کی وجہ سے امریکہ نے لینگلے ایئر فورس بیس سے F-22 ریپٹرز مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے تھے۔

امریکی فوجی حکام کی طرف سے العریبہ کو بتایاگیا کہ شام میں روسی فوجی دستوں نے امریکی اور اتحادی افواج کے ساتھ متفقہ ڈی کنفلیکشن (عدم تصادم) پروٹوکول پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اس بیان کے بعد یہ اقدام کیاگیا۔

لیفٹیننٹ جنرل گرینکیوچ نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ روس، شام کی فضاؤں میں امریکہ کو شدید قسم کی جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش جاری رکھے ہوئے ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں