روس میں بغاوت

واگنر کے سربراہ پریگوزن کی نقل وحرکت کی کوئی نگرانی نہیں کی جارہی: کریملن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

کریملن نے کہا ہے کہ روس کی کرائے کی ملیشیا واگنر کے سربراہ ایوگینی پریگوزن کی نقل وحرکت کی کوئی نگرانی نہیں کی جارہی ہے۔

کریملن کے ترجمان نے یہ وضاحت بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے اس بیان کے بعد جاری کی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ پریگوزن اس وقت ان کے ملک میں موجود نہیں ہیں۔لوکاشینکو ہی نے گذشتہ ماہ واگنر گروپ کی روس میں مسلح بغاوت کے بعد ثالثی کی تھی اور اس کے تحت پریگوزن کی بیلاروس منتقلی سے اتفاق کیا گیا تھا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے جمعرات کو صحافیوں کو بتایا کہ صدرولادی میرپوتین اور لوکاشینکو کے درمیان ملاقات کی کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے اور وہ فی الوقت اس ملاقات کے ایجنڈے کی تفصیل کی بھی تصدیق نہیں کرسکتے کہ اس میں کیا موضوع زیربحث آئیں گے۔البتہ صدر لوکاشینکو نے قبل ازیں کہا تھا کہ پریگوزن کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

روس کے سرکاری ٹی وی نے بدھ کی شب ایک نشریے میں واگنر ملیشیا کے سربراہ پریگوزن پر تندوتیز حملہ کیا تھا اور کہا تھا کہ ابھی تک بغاوت کی تحقیقات جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں