بھارت کی آبی جارحیت: عالمی ثالثی عدالت میں پاکستان کی درخواست منظور

کشن گنگا ڈیم کیس؛ عالمی ثالثی عدالت میں بھارت کا اعتراض مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

عالمی ثالثی عدالت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس کے حوالے سے پانی کی تقسیم کے دہائیوں پرانے معاہدے سے جڑے تنازعہ پر پاکستان کی درخواست منظور کرتے ہوئے عدالت نے بھارت کا پرمیننٹ کورٹ آف آربیٹریشن کے دائرہ اختیار پر اعتراض مسترد کر دیا۔

بھارتی دفتر خارجہ نے اس بارے میں عالمی ثالثی عدالت کو نام نہاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ثالثی عدالت کا آئین سندھ طاس معاہدے کی شقوں کے منافی ہے۔

دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی ثالثی عدالت سے حکومت پاکستان کو بڑی کامیابی مل گئی ہے جہاں عدالت نے کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹس سے متعلق پاکستان کی درخواست منظور کرلی ہے۔ عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کا پرمیننٹ کورٹ آف آربیٹریشن کے دائرہ اختیار پر اعتراض مسترد کر دیا ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق یہ پیش رفت پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات پر اپنی اہلیت کو آگے بڑھانے کا راستہ ہے اور سندھ طاس معاہدے کی تشریح اور اطلاق پر مبنی ہے۔ ثالثی عدالت نے اہلیت کو برقرار رکھتے ہوئے یہ طے کیا کہ اب وہ تنازعات اور مسائل حل کرنے کے لیے آگے بڑھے گی۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک بنیادی معاہدہ ہے، پاکستان تنازعات کے حل کے طریقہ کار سمیت معاہدے کے نفاذ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے، ہمیں امید ہے کہ بھارت بھی نیک نیتی کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد کرے گا۔

خیال رہے کہ پاکستان نے 19 اگست 2016 کو سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 9 کے مطابق ایڈہاک ثالثی عدالت کے قیام کی درخواست کرکے قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

پاکستان نے یہ قدم 2006 میں کشن گنگا پراجیکٹ اور 2012 میں رتلے پروجیکٹ کے لیے شروع ہونے والے ’پرمننٹ انڈس کمیشن‘ میں اپنے تحفظات کو سختی سے اٹھانے اور پھر جولائی 2015 میں نئی دہلی میں ہونے والے حکومتی سطح کے مذاکرات میں حل طلب کرنے کے بعد اٹھایا تھا۔

اس معاملہ میں پاکستان کی طرف سے ایڈووکیٹ زوہیر وحید اور ایڈووکیٹ لینا نشتر سمیت بیرسٹر احمد عرفان اسلم نے پی اے سی میں پاکستان کے ایجنٹ کے طور پر کام کیا ہے۔ جب کہ اٹارنی جنرل آفس بھی اس بارے میں عدالت میں پیش ہوتا رہا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر بین الاقوامی فورم پر اپنی شکایت درج کروائی تھی۔

بین الاقوامی فورم پی سی اے کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کی درخواست کو قابلِ سماعت قرار دے دیا گیا ہے، جس میں پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشن گنگا اور رتلے ڈیم تعمیر کر رہا ہے۔

پاکستان کی درخواست پر بھارتی اعتراضات کے حوالے سے پی سی اے نے 13 مئی کو اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

بھارت نے ثالثی عدالت کو سندھ طاس معاہدے کی شقوں کے منافی قرار دے دیا

بھارتی دفتر خارجہ کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ہم نے ثالثی کی مستقل عدالت کی طرف سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز کو دیکھا ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر قائم نام نہاد ثالثی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ اس کے پاس کشن گنگا اور رتلے پن بجلی منصوبوں سے متعلق معاملات پر غور کرنے کی 'اہلیت' ہے۔

بھارتی ترجمان کے مطابق بھارت کا مستقل اور اصولی موقف رہا ہے کہ نام نہاد ثالثی عدالت کا آئین، سندھ طاس معاہدے کی شقوں کے منافی ہے۔

بھارتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ایک غیر جانبدار ماہر پہلے ہی کشن گنگا اور رتلے پراجیکٹس سے متعلق اختلافات کا شکار ہے۔ ایسے موقع پر صرف غیر جانبدار ماہرین کی کارروائی ہی معاہدے کے مطابق کارروائی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان معاہدہ کے مطابق ایک جیسے مسائل کے حل کے لیے متوازی کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

بھارت معاہدے کے مطابق غیر جانبدار ماہرین کی کارروائیوں میں حصہ لے رہا ہے۔ غیر جانبدار ماہرین کا آخری اجلاس 27-28 فروری 2023 کو دی ہیگ میں ہوا تھا اور اب غیر جانبدار ماہرین کے عمل کا اگلا اجلاس ستمبر 2023 میں ہونے والا ہے۔

بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت کو غیر قانونی اور متوازی کارروائیوں کو تسلیم کرنے یا اس میں حصہ لینے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جس کا اس معاہدے میں تصور نہیں کیا گیا ہے۔بھارتی حکومت سندھ طاس معاہدے کی دفعہ XII (3) کے تحت ترمیم کے حوالے سے حکومت پاکستان کے ساتھ بات چیت کر رہی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کا موقف

پاکستان کے دفتر خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت پاکستان کو ثالثی کی عدالت کے ایوارڈ سے نوازا گیا ہے، جو کشن گنگا اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پراجیکٹس سے متعلق پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعات پر اپنی اہلیت اور آگے بڑھنے کا راستہ بتا رہا ہے۔ یہ فیصلہ سندھ طاس معاہدے کی تشریح اور اطلاق کے وسیع تر سوالات کے جواب دے رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق عدالت نے اس معاملہ کی اہلیت کو برقرار رکھا ہے اور یہ طے کیا ہے کہ اب وہ تنازعات کے مسائل کو حل کرنے کے لیے آگے بڑھے گی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا ایک بنیادی معاہدہ ہے۔ پاکستان تنازعات کے حل کے طریقہ کار سمیت معاہدے کے نفاذ کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ ہمیں امید ہے کہ ہندوستان بھی نیک نیتی کے ساتھ معاہدے پر عمل درآمد کرے گا۔

کشن گنگا پراجیکٹ تنازعہ کیا ہے؟

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشن گنگا پراجیکٹ کے حوالے سے تنازعہ سال 2007 میں اس وقت شروع ہوا جب بھارت میں کشن گنگا ڈیم پر ہائیڈرو پاور پراجیکٹ شروع ہوا تو پاکستان کو پانی کی فراہمی متاثر ہوئی جس پر پاکستان نے پانی کی فراہمی کے معاملے پر بھارت کے خلاف عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا تھا۔ پاکستان کا کہنا تھا کہ اس پراجیکٹ کی وجہ سے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

عالمی ثالثی عدالت نے 2013 میں بھارت کو کشن گنگا پراجیکٹ ڈیزائن میں مشروط تبدیلی کی اجازت دی تھی۔

پاکستان کا موقف تھا کہ شمالی کشمیر کے خطے میں واقع کشن گنگا ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کی طرف پانی کے بہاؤ میں غیر معمولی اثر پڑے گا۔ پاکستان نے دریائے نیلم پر کشن گنگا ڈیم اور دریائے چناب پر 850 میگا واٹ ریٹلے پن بجلی منصوبے کے خلاف عالمی ثالثی عدالت میں قرارداد پیش کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

جب کہ بھارت نے کشن گنگا ڈیم کیس کو عالمی ثالثی عدالت کے دائرہ اختیار سے نکالنے کی درخواست کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں