روسی لڑاکا طیاروں کی شام میں دوبارہ امریکی ڈرونز کے 'خطرناک حد تک قریب' پرواز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی فضائیہ کا کہنا ہے کہ جمعرات کے روز روسی لڑاکا طیاروں نے شام میں امریکی ڈرونز کے سامنے میزائل کو غیر مؤثر کرنے والے شعلے گرائے اور "خطرناک حد تک قریب" پرواز کی۔

ادھر مشرق وسطیٰ میں اعلیٰ امریکی فوجی جنرل نے خبردار کیا کہ روس کی بار بار خلاف ورزیاں شام میں ایک اہم سیکورٹی خطرہ بن رہی ہیں۔ گذشتہ 24 گھنٹوں میں یہ اس نوعیت کا دوسرا واقعہ تھا۔

امریکی فضائیہ کے مطابق، امریکی MQ-9 ڈرون شام میں داعش مخالف مشن انجام دے رہے تھے۔ ایک بیان میں کہا گیا کہ "روسی طیارے نے ڈرونز کے سامنے (میزائل کو غیر مؤثر کرنے والے) شعلے گرائے اور خطرناک حد تک قریب سے پرواز کی، جس سے اس مشن میں شامل تمام طیاروں کی حفاظت خطرے میں پڑ گئی۔"

مشرق وسطیٰ میں فضائی کارروائیوں کے ذمہ دار امریکی جنرل لیفٹیننٹ جنرل الیکس گرینکیوچ نے کہا کہ ’’یہ واقعات شام میں کام کرنے والی روسی فضائیہ کے غیر پیشہ ورانہ اور غیر محفوظ سرگرمیوں کی ایک اور مثال ہیں، جو اتحادی اور روسی افواج دونوں کے تحفظ کے لیے خطرہ ہیں۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہم شام میں روسی افواج پر زور دیتے ہیں کہ وہ اس لاپرواہ رویئے سے گریز کریں اور ان معیارات پر عمل کریں جن کی ایک پیشہ ورانہ فضائیہ سے توقع کی جاتی ہے تاکہ ہم داعش کی دیرپا شکست پر اپنی توجہ دوبارہ مرکوز کر سکیں"۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے سربراہ، جنرل ایرک کوریلا نے اپنی طرف سے کہا، "روسی فضائی افواج کی جانب سے متفقہ معیارات اور طریقوں کی بار بار خلاف ورزیاں اب خطے میں ایک اہم حفاظتی مسئلہ بنتی جا رہی ہیں۔"

گذشتہ مہینے، خطے میں روسی طیاروں کے بڑھتے ہوئے غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ رویے کی وجہ سے امریکہ نے لینگلے ایئر فورس بیس سے F-22 ریپٹرز مشرق وسطیٰ میں تعینات کیے تھے۔

امریکی فوجی حکام نے العربیہ کو بتایا کہ شام میں روسی فوجی دستوں نے امریکی اور اتحادی افواج کے ساتھ متفقہ ڈی کنفلیکشن (عدم تصادم) پروٹوکول پر عمل کرنا چھوڑ دیا تھا۔ اس بیان کے بعد یہ اقدام کیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل گرینکیوچ نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ روس، شام کی فضاؤں میں امریکہ کو شدید قسم کی جنگ میں گھسیٹنے کی مسلسل کوشش کر رہا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں