پریگوزن روس میں ہیں، واگنر گروپ کا کوئی جنگجو بیلاروس میں نہیں: صدر لوکا شینکو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بیلا روس کے محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ روس کے نجی مسلح گروپ ’واگنر‘ کا کوئی جنگجو ان کے ملک میں نہیں ہے اور واگنر کے سربراہ یوگینی پریگوزن اس وقت روس میں ہیں۔

ادھر بیلا روسی صدر الیکزینڈر لوکاشینکو کا کہنا ہے کہ مسلح گروہ واگنر کے سربراہ یوگینی پریگوزن جنہوں نے گذشتہ ماہ روس میں مختصر مدت کے لیے بغاوت کی قیادت کی تھی، بیلاروس میں نہیں بلکہ روس میں ہیں۔

جمعرات کو بیلاروس کے صدر لوکاشینکو نے کہا کہ ’جہاں تک پریگوزن کا تعلق ہے تو وہ سینٹ پیٹرزبرگ میں ہیں۔ وہ بیلاروس کے علاقے میں نہیں ہیں۔‘

لوکاشینکو کے بیان کے جواب میں کریملن نے کہا ہے کہ وہ پریگوزن کی نقل و حرکت پر نظر نہیں رکھ رہا ہے۔

بیلاروس میں واگنر کیمپ کا منظر
بیلاروس میں واگنر کیمپ کا منظر

لوکاشینکو نے بغاوت کو ختم کرنے کے لیے معاہدے میں مدد کی تھی اور صرف ایک ہفتہ قبل کہا تھا کہ پریگوزن بیلاروس پہنچ گئے ہیں۔ تاہم انہوں نے اپنے ہی اس دعوے کی ترید کردی جس کا اعتراف ایک ہفتے قبل انہوں نے کیا تھا۔

ادھر امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ نے نئی سیٹلائٹ تصاویر شائع کی ہیں جن کے بارے میں اخبار نےدعویٰ کیا ہے کہ یہ تصاویر بیلا روس کے ایک متروکہ فوجی اڈے کی ہیں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق گذشتہ پانچ دنوں میں بیلاروس کے ایک ویران فوجی اڈے پر سینکڑوں بڑے خیمے لگائے گئے ہیں۔

بڑے کیمپ کا قیام

امریکی اخبار نے پہلی بار ایک ہفتہ قبل اطلاع دی تھی کہ خالی کرائے گئے اڈے پر تعمیراتی کام ہو رہا ہے اور گذشتہ جمعرات اور جمعہ کو لی گئی تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ ایک بڑا فوجی کیمپ بنایا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ اڈہ واگنر جنگجوؤں کا ممکنہ ٹھکانہ ہو سکتا ہے جنہیں ناکام بغاوت کے بعد بیلاروس جانے کا اختیار دیا گیا تھا۔ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ کمک ہزاروں جنگجوؤں کی ضروریات کو پورا کر سکتی ہے، لیکن تصاویر یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ افواج ابھی تک نہیں پہنچی ہیں۔

250 خیمے

تصاویر پہلی بار کیمپ کی تفصیلات ظاہر کرتی ہیں، جہاں 250 سے زیادہ خیمے صاف ستھری قطاروں میں ترتیب دیئے گئے ہیں۔ یہ اتنے بڑے دکھائی دیتے ہیں کہ ان میں کئی ہزار افراد کے سما سکتے ہیں۔ قریب ہی اضافی خیمے بھی ہیں جو امدادی سہولیات ہو سکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ فوجی اڈے بیس کے مرکزی داخلی دروازے پر اضافی حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں۔

واگنر کے اہلکار۔ [اے پی]
واگنر کے اہلکار۔ [اے پی]

رپورٹ کے مطابق تعمیر کا کام واگنر کے جنگجوؤں کی طرف سے روسی صدر ولادیمیر پوتین کے خلاف بغاوت کو ختم کرنے کے چند دنوں کے اندر شروع ہو گیا تھا۔ یہ جگہ بیلاروسی صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کی طرف سے کرائے کے فوجیوں کو پناہ دینے کی جگہ کے بارے میں فراہم کردہ تفصیلات سےملتی جلتی ہے۔

بیلاروس کے دارالحکومت منسک سے تقریباً 80 میل جنوب مشرق میں فیلڈ کیمپ کی تعمیر زیادہ تر سائٹ پر مکمل ہو چکی ہے۔

پہلا واضح نظارہ

امبرا اسپیس کے ذریعے لی گئی ایک سیٹلائٹ تصویر نے سائٹ کا پہلا واضح نظارہ فراہم کیا ہے۔

ابھی تک تصاویر یا دیگر رپورٹوں سے اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ جمعہ کی صبح تک کسی بھی واگنر جنگجو کو کیمپ میں منتقل کیا گیا ہے اور یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ آیا کوئی جنگجو بیلاروس منتقل ہوں گے۔ فوجی بیس کے مغربی جانب مقامات اور عمارتوں کے قریب کوئی فوجی گاڑیاں نہیں دیکھی گئی ہیں۔

بیلاروسی ہیگن پروجیکٹ جو ملک کے اندر فوجی نقل و حرکت پر نظر رکھتا ہے نے اس ہفتے روسی افواج کی کسی بڑی نقل و حرکت کی اطلاع نہیں دی، حالانکہ اس نے کہا ہے کہ بدھ کے روز کیمپ کے قریب اسیپووچی قصبے کے قریب کئی روسی فوجی گاڑیاں دیکھی گئیں۔

"کوئی اپ ڈیٹ نہیں"

درایں اثناء امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کے ترجمان جنرل پیٹرک رائڈر نےکل جمعرات کو کہا تھا کہ ان کے پاس واگنر فورسز کی بیلاروس منتقلی کے بارے میں کوئی تازہ تفصیلات نہیں ہیں۔

لیکن نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے مزید کہا کہ "ظاہر ہے یہ وہ چیز ہے جس کی ہم نگرانی کرتے رہیں گے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں