العربیہ ایکسکلوسیو

یوکرین کو کلسٹر گولہ بارود بھیجنے کے بارے میں بات چیت ہو رہی ہے: جان کربی

جنگ ختم بھی ہوجائے تو یوکرین کی سرحدیں روس کے ساتھ برقرار رہیں گی: ترجمان امریکی سلامتی کونسل کی العربیہ سے گفتگو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے واشنگٹن میں العربیہ کی نامہ نگار سے خصوصی گفتگو میں انکشاف کیا کہ بائیڈن انتظامیہ یوکرین کو کلسٹر گولہ بارود بھیجنے پر غور کر رہی ہے تاہم ابھی تک فیصلہ نہیں کیا گیا۔

کربی نے اشارہ کیا کہ امریکی کلسٹر گولہ باری بہت مؤثر ہے۔ میں ایسے فیصلوں سے آگے نہیں بڑھنا چاہتا جو کسی نہ کسی طرح سے عام نہیں کیے گئے ہیں۔ میں ایک مرتبہ پھر بتانا چاہوں گا کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے تیار کردہ کلسٹر ہتھیاروں کی ناکامی کی شرح بہت کم ہے اور وہ بہت مؤثر ہیں۔

امریکی حکام نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ یوکرین کو روسی حملے سے لڑنے میں مدد کے لیے کلسٹر گولہ بارود بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس اقدام کی انسانی حقوق کے گروپوں نے مخالفت کی ہے لیکن اس سے یوکرین کے جوابی حملے کو طاقت کا ایک نیا عنصر ملے گا۔

تین امریکی عہدیداروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر انکشاف کیا کہ ہتھیاروں کے امدادی پیکج جس میں 155 ایم ایم ہووٹزر کے ذریعے فائر کیے جانے والے کلسٹر گولہ بارود شامل ہیں کا اعلان آج جمعہ کو جلد سے جلد متوقع ہے۔ ایک عہدیدار نے یہ بھی کہا کہ یہ اقدام کم از کم ایک ہفتے سے سنجیدگی سے زیر غور ہے۔

بدلے میں ہیومن رائٹس واچ نے روس اور یوکرین سے کلسٹر گولہ بارود کا استعمال بند کرنے کا مطالبہ کیا اور امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ کلسٹر بم یوکرین کو فراہم نہ کرے۔

کلسٹر گولہ بارود پر 120 سے زیادہ ملکوں نے پابندی عائد کر رکھی ہے۔ کلسٹر بم عام طور پر ایک بڑے علاقے میں لوگوں کو اندھا دھند قتل کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ کلسٹر بموں کے استعمال سے شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔

2009 کا ایک قانون ریاست ہائے متحدہ امریکہ پر کلسٹر گولہ بارود برآمد کرنے پر پابندی عائد کرتا ہے جس کا اطلاق تقریباً تمام امریکی فوج کے ذخیرے پر ہوتا ہے۔ لیکن بائیڈن اس پابندی کو نظرانداز کرسکتے ہیں جیسا کہ ان کے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2021 میں جنوبی کوریا کو کلسٹر گولہ باری کی ٹیکنالوجی کی برآمد کی اجازت دینے کے لیے کیا تھا۔

یوکرین کانگریس کے ممبران پر زور دے رہا ہے کہ وہ بائیڈن انتظامیہ پر دباؤ ڈالیں کہ وہ کلسٹر گولہ بارود بھیجنے کی منظوری دے۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ نیٹو کے آئندہ سربراہی اجلاس میں یوکرین کے لیے طویل مدتی دفاعی ضروریات پر توجہ مرکوز کی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اتحادیوں کے پاس ’’روس یوکرین تنازع‘‘ سے متعلق ایک مشترکہ تصویر ہو۔

انہوں نے ’’العربیہ‘‘ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ براعظم میں سکیورٹی کی صورتحال ڈیڑھ سال پہلے کی نسبت یکسر مختلف ہے۔ اتحادی نیٹو کے مشرقی حصے کو مضبوط بنانے کے بارے میں بات چیت کریں گے۔ جان کربی نے اسرائیل فلسطین تنازع، سوڈان اور ایران سے متعلق جغرافیائی سیاسی مسائل پر بھی بات کی۔

یوکرین کی نیٹو کی رکنیت

جان کربی نے کہا کہ ہم یوکرین کے ساتھ قائم رہیں گے اور ہم ان کی مدد کے لیے جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کرتے رہیں گے۔ امریکہ توقع کرتا ہے کہ اتحادی طویل مدت میں یوکرین کی مدد کے لیے کیے جانے والے سکیورٹی وعدوں پر توجہ مرکوز کریں گے۔ لیکن یہ وعدے نیٹو کے سربراہی اجلاس میں بات کرنے والے اتحادیوں پر منحصر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب بھی اور کسی بھی طریقے سے جنگ ختم ہوگی تو یوکرین کی روس کے ساتھ ایک طویل سرحد موجود رہے گی اور یوکرین کی جائز دفاعی ضروریات بھی برقرار رہیں گی۔

ایران کی اشتعال انگیزی

جان کربی نے کہا کہ بحری جہاز رانی پر ایران کا حملہ کوئی نیا رویہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ خلیج میں اور اس کے ارد گرد مضبوط سیکورٹی موجودگی جاری رکھے گا۔ ہم ایرانی حکومت پر دباؤ ڈالنے کے دوسرے طریقے تلاش کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

سوڈان میں جھڑپیں

جان کربی نے کہا کہ امریکی سفارت کار سوڈان میں متحارب دھڑوں کے ساتھ حل تک پہنچنے میں مدد کے لیے سخت محنت کر رہے ہیں۔ ہم دونوں فریقوں کو اپنے وعدوں کی پاسداری کے لیے مشغول کرنے کے لیے کام جاری رکھیں گے جیسا کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر امداد پہنچانے کی اجازت دینا چاہتے ہیں۔

اسرائیل- فلسطین

اسرائیل فلسطین تنازع پر انہوں نے کہا کہ امریکہ اسرائیل کے ساتھ معمول کے مطابق بات چیت کر رہا ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں اور صدر بائیڈن کا خیال ہے کہ دو ریاستی حل اب بھی قابل عمل ہے۔ کشیدگی کو کم کرنے اور تشدد کی مذمت کرنے کے لیے دونوں طرف کی قیادت کی ضرورت ہوگی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں