افغانستان میں امریکی فوج کا معاون مترجم افغان شہری واشنگٹن میں فائرنگ سے قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

افغانستان میں امریکی فوج کے معاون اور مترجم کے طور پر خدمات انجام دینے والے افغان شہری کو واشنگٹن میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔

31 سالہ نصرت احمد یار نے اپنی بالغ زندگی کا بیشتر حصہ افغانستان میں امریکی فوج کے ساتھ کام کرتے ہوئے گزارہ تھا ۔وہ اگست 2021ء میں امریکی فوج کے انخلا اور کابل پرطالبان کے قبضے کے بعد اپنی بیوی اور چار بچوں کے لیے بہتر زندگی کی تلاش میں امریکا چلا گیا تھا۔

امریکا میں اس کو رائیڈ شیئر ڈرائیور کے طور پر کام مل گیا اور وہ اپنے اہل خانہ اور دوستوں کی مدد کے لیے رقم واپس افغانستان بھیجنے لگ گیا تھا۔ وہ واشنگٹن کے مضافاتی علاقے میں رہتا تھا اور دوستوں کے ساتھ والی بال کھیلنا پسند کرتا تھا جہاں اب اپنے ملک سے فرار ہونے والے بہت سے افغان رہتے ہیں۔

گذشتہ پیر کی رات کرایہ کمانے کی فکر میں وہ گاڑی چلاتے ہوئے باہر گیا اور واشنگٹن میں اسے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس نے ابھی تک اس کے قتل کے الزام میں کسی مشتبہ شخص کو گرفتار نہیں کیا ہے لیکن نگرانی کی ویڈیو میں ایک گولی کی آواز ریکارڈ کی گئی ہے اور چار لڑکے یا نوجوان بھاگتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ پولیس نے ان کی گرفتاری میں معاون معلومات فراہم کرنے والے کو 25 ہزار ڈالر انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

احمد یار نے تقریبا ایک دہائی تک امریکی فوج میں مترجم کے طور پر کام کیا تھا اور دیگر کام بھی کیے تھے۔اگرچہ امریکا نے 2009 سے افغانستان میں امریکی حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے والے افغانوں کے لیے خصوصی امیگرنٹ ویزا پروگرام مختص کیا ہوا ہے لیکن مقتول نصرت احمد یار نے اس ویزے کےلیے درخواست نہیں دی تھی اور اس کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ شاید واپس افغانستان جانا چاہتا تھا۔

وہ خود اپنے بیوی بچوں کے ساتھ شمالی شہر مزار شریف سے متحدہ عرب امارات کے راستے امریکا آیا تھا۔اس وقت اس کی سب سے بڑی بیٹی کی عمر تیرہ سال ہے۔باقی تین لڑکے ہیں۔ان کی عمریں بالترتیب گیارہ سال ، آٹھ سال اور پندرہ مہینے ہیں۔یہ خاندان پہلے ریاست پنسلوانیا گیا، لیکن وہاں انھیں لوٹ لیا گیا تھا اور اس کے بعد انھوں نے واشنگٹن سے باہر شمالی ورجینیا میں اسکندریہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔

واشنگٹن میں پولیس نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انھوں نے ایک بے ہوش شخص کے بارے میں کال کا جواب دیا اور احمد یار کی لاش ملی۔ وہ اسے فوری طور پر اسپتال لے گئے، جہاں اسے مردہ قرار دے دیا گیا۔ انھوں نے جو نگرانی کی ویڈیو جاری کی ہے، اس میں چار مشتبہ حملہ آوروں میں سے ایک چیختے ہوئے کَہ رہا ہے:’’تم نے ابھی اسے مار دیا ہے‘‘۔ ایک اور نے جواب دیا، "وہ پہنچ رہا تھا بھائی‘‘۔

احمد یار کی ناگہانی موت کے بعد سے اس کی بیوہ اور بچّوں کے لیے امدادی فنڈ قائم کیا گیا ہے اور لوگ بہت عطیات دے رہے ہیں۔مقتول احمد یار کی تدفین آج ہفتہ کے روز کی جانے والی تھی۔مقتول کے کزن محمد احمدی نے بتایا کہ ان کی بیوی اب بھی صدمے میں ہے۔تاہم اس خاتون کا کہنا تھا کہ ’’ان کا اور ان کے شوہر کا امریکا آنے کا ایک ہی مقصد ہے کہ وہ اپنے بچّوں کو اچھا مستقبل فراہم کریں۔وہ اسکول اور کالج جائیں۔اسی طرح وہ معاشرے کے لیے تعلیم یافتہ اور مفید شہری بن سکتے ہیں‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں