امریکہ نے اپنے آخری کیمیائی ہتھیار بھی تباہ کر دئیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے کیمیائی ہتھیاروں کے اپنے آخری ذخیرے کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ 1997 میں شروع کیے جانے والے اس عمل کو مکمل کرلیا گیا ہے۔ اس وقت امریکہ نے ان مہلک ہتھیاروں پر پابندی کے عالمی کنونشن پر دستخط کیے تھے۔

بائیڈن نے کہا کہ 30 سال سے زیادہ عرصے کے دوران امریکہ نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کے ذخیرے کو ختم کرنے کے لیے انتھک محنت کی ہے۔ آج مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے فخر محسوس ہو رہا ہے کہ امریکہ نے اس ذخیرے میں موجود آخری گولہ بارود کو بھی بحفاظت تباہ کر دیا ہے۔ ہم کیمیکل ہتھیاروں کی ہولناکیوں کے بغیر دنیا کے ایک قدم قریب ہیں۔

او پی سی ڈبلیو کے ڈائریکٹر جنرل فرنینڈو ایریاس نے مئی میں اعلان کیا کہ 1997 کے کیمیائی ہتھیاروں کے کنونشن کے دیگر دستخط کنندگان نے پہلے ہی اپنے ذخائر کو تباہ کر دیا تھا۔ ایریاس نے کہا کہ صرف امریکہ کو اپنے ذخائر کو تباہ کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے 70 ہزار ٹن سے زیادہ خطرناک زہر تنظیم کی نگرانی میں تلف کیے گئے ہیں۔

اپنے بیان میں بائیڈن نے باقی دنیا کو 1997 کے معاہدے پر دستخط کرنے کی ترغیب دی تاکہ کیمیائی ہتھیاروں پر عالمی پابندی اپنے مکمل دائرہ کار تک پہنچ سکے۔ امریکی صدر نے کہا کہ روس اور شام کو معاہدے کی دوبارہ تعمیل کرنی چاہیے۔ ان دونوں ملکوں کو اپنے غیر اعلانیہ پروگراموں کو تسلیم کرنا چاہیے جو انتہائی مظالم اور حملوں کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے اعلان سے پہلے ریپبلکن سینیٹر مچ میک کونل نے جمعہ کو کہا کہ ریاست کینٹکی میں واقع "بلیو گراس" ملٹری سائٹ نے حال ہی میں چار سال کے مشن کے بعد تقریباً 500 ٹن مہلک کیمیکل کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ مواد امریکی مسلح افواج کے پاس موجود آخری ذخائر کی نمائندگی کرتا تھا۔

کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت کی تنظیم نے جمعہ کو اس بات کی تصدیق کی کہ کیمیائی ہتھیاروں کے اپنے آخری اثاثوں کو تباہ کرنے کے امریکی اعلان کے بعد تمام اعلان کردہ ذخیرے کو "ناقابل واپسی طور پر تباہ" کر دیا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں