بغداد سے لاپتہ اسرائیلی روسی خاتون ماہر تعلیم کی سکارف پہنے پرانی ویڈیو وائرل

ویڈیو میں سکارف پہنے الزبتھ تسرکوف مقتدی الصدر کی تعریف کر رہی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی جانب سے بغداد میں اسرائیلی روسی ماہر تعلیم الزبتھ تسرکوو کے اغوا کے اعلان کے بعد تسرکوو کا ایک پرانا ویڈیو کلپ سامنے آگیا ہے۔ اس کلپ میں اسرائیلی روسی ماہر تعلیم نے اپنے دورے اور عراق میں صدرسٹ تحریک کے لیڈر مقتدی الصدر کی شخصیت کے متعلق گفتگو کی ہے۔

بغداد کی ایک شاہراہ پر ایک رپورٹر کے ساتھ اپنے گزشتہ انٹرویو میں سر پر سکارف پہنے ہوئے تسرکوو نے کہا مقتدی الصدر کے شہر میں نماز جمعہ ایک تاریخی واقعہ ہے کیونکہ اس کی جڑیں نوے کی دہائی تک پھیلی ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ شہر ہے جو بین الاقوامی سطح پر ایسے مقام کے طور پر معروف ہے جو کسی بھی ظالم کے خلاف انقلاب اور بغاوت پیدا کرتا ہے۔

انہوں نے مقتدیٰ الصدر کے بارے میں بھی بات کی اور کہا کہ مقتدیٰ الصدر ایک قومی شخصیت ہیں جو مغربی اور عرب ممالک کی مداخلت کو مسترد کرتی ہیں۔ میرے خیال میں ہر عراقی سیاسی رہنما کا ایسا ہی موقف ہونا چاہیے ۔ کاش عراق کے تمام سیاستدان ان جیسے ہوتے اور ان کی طرح عراق اور اس کے عوام کے مفادات کا خیال رکھتے۔

رپورٹر نے سوال کیا ’’ کیا آپ مسلمان ہیں؟‘‘ تو جواب میں تسرکوو نے کہا، "میں مسلمان نہیں ہوں" ۔ انہوں نے کہا میں اس شہر کی مسجد میں نماز جمعہ میں شریک ہوئی ہوں۔

عراقی حکومت کے ترجمان باسم العوادی کے مطابق عراقی حکومت نے ملک میں اسرائیلی روسی خاتون ماہر تعلیم اور تحقیق کار کے اغوا سے متعلق تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ اسرائیل نے ایران سے وفادار دھڑے ’’ کتائب حزب اللہ‘‘ پر تسرکوو کے اغوا کا الزام عائد کیا ہے۔ جواب میں ’’ کتائب حزب اللہ‘‘ نے اسرائیلی الزام کی تردید کردی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاھو کے دفتر نے بدھ کو بیان میں یہ بھی کہا تھا کہ الزبتھ تسرکوف زندہ ہیں اور ہم عراق کو ان کی حفاظت کا ذمہ دار سمجھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں