ترکیہ میں ایک ہفتے کے لیے اپوزیشن چینل کی نشریات بند کردی گئیں

اپوزیشن چینل کے ایڈیٹر انچیف کے حکمران پارٹی ’’ پی کے کے‘‘ کے بانی عبداللہ اوکلان کے بارے میں بیانات پر کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ میں میڈیا ریگولیٹری ادارہ نے کردستان ورکرز پارٹی کے بانی عبداللہ اوکلان کے بارے میں اس کے ایڈیٹر انچیف کے بیانات کے پس منظر میں ایک اپوزیشن چینل کی نشریات کو ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا۔

ٹیلی 1 چینل کے ایڈیٹر انچیف ینارداغ کو 27 جون کو دہشت گردی کا پروپیگنڈا کرنے اور مجرموں کی تعریف کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔

ینارداغ نے پوچھا تھا کہ ’’کالعدم کردستان ورکرز پارٹی‘‘ (PKK) کی طرف سے شروع کی گئی بغاوت کی قیادت کرنے والے اوکلان کو 1999 میں ترک افواج کے ہاتھوں گرفتار ہونے تک بحیرہ مرمرہ کے ایک جزیرے پر قید تنہائی میں کیوں رکھا گیا ؟

پولیس نے ینارداغ کو اپنے بیانات دینے کے چند گھنٹے بعد گرفتار کر لیا اور اگلے دن اسے باضابطہ طور پر گرفتار کر کے اس پر فرد جرم عائد کر دی گئی۔ چینل کے ایڈیٹر انچیف اور ان کے حامیوں کے دفاعی وکلا نے کہا ہے کہ پبلک پراسیکیوشن نے ان کے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔

ٹیلی 1 بائیں بازو کا حزب اختلاف کا چینل ہے۔ یہ ان چار میڈیا اداروں میں سے ایک ہے جن پر مئی میں ترکیہ میں ہونے والے عام انتخابات کی کوریج کرنے پر جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔

انتخابی مہم کے دوران ترک صدر رجب طیب ایردوان نے حزب اختلاف پر کرد دہشت گردوں کی حمایت کا الزام لگایا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں