حج ویزا کی مدت بڑھانے سے معیشت میں تنوع پیدا ہوگا: سعودی عرب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک ایسے وقت میں جب سعودی عرب میں ان دنوں معیشت کو متنوع بنانے کی پالیسی آگے بڑھ رہی ہے ماہرین نے کہا کہ ہے حج کے ویزا کی مدت میں تین ماہ کی توسیع ایک زبردست آئیڈیا ہے۔ حج ویزا کی مدت بڑھانے سے سعودی عرب کی سروسز، سیاحت اور تجارتی معیشت کے ذرائع بھی بڑھ جائیں گے۔ حجاج کرام کے سعودی عرب میں زیادہ دیر قیام سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ جدہ ایئرپورٹ پر دباؤ بھی کم ہوگا تو اس پر اور دیگر شہروں کے ایئرپورٹس پر سیاحتی اور ثقافتی ورثہ کی سرگرمیاں بڑھانے میں بھی مدد ملے گی۔

سعودی عرب میں تین سالوں میں کورونا کی پابندیوں کے بعد اس سال حج کو دوبارہ پوری صلاحیت کے ساتھ بحال کیا گیا ہے۔ مکہ مکرمہ میں معاشی سرگرمیاں بڑھ گئی ہیں۔ ماہرین کے مطابق 2021 اور 2022 کے مقابلے میں اس سال مکہ مکرمہ میں معاشی سرگرمیوں میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

سعودی شوریٰ کونسل کے ایک رکن فضل بن سعد البوعینین نے اس بات پر زور دیا کہ حج کے جامع تجربہ میں حج اور عمرہ کی مناسک ادا کرنے سے بڑھ کر اپنے قیام کے دوران مملکت کے شہروں کے درمیان منتقل ہونا بھی شامل ہے۔

حج ویزا میں تین ماہ کی مدت کی توسیع حج اور عمرہ کرنے والوں کو سیاحتی علاقوں کا دورہ کرنے کے قابل بنانے کے لئے بہت اہم ہے۔ مملکت میں ورثہ اور سیاحت کے شعبہ میں سرگرمیاں بڑھیں گی اور مجموعی معیشت پر مضبوط اثر پڑے گا۔

الشروق سینٹر فار اکنامک سٹڈیز کے سربراہ ڈاکٹر عبدالرحمٰن باشین نے کہا سعودی اقتصادی پالیسیوں نے کھلے پن سے لے کر حجاج کرام کو مزید علاقوں تک دورہ کرنے کی اجازت دینے کی حکمت عملی اپنائی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں