رواں برس ایران سے پکڑے گئے ہتھیاروں کا قبضہ لینے کی دوسری امریکی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی محکمہ انصاف نے رواں ہفتے ایران سے قبضے میں لیے گئے ہزاروں ہتھیاروں کو ضبط کرنے کی شکایت درج کرائی۔

یہ ہتھیار امریکی بحریہ نے قبضے میں لیے تھے جو مبینہ طور پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں سمیت یمن میں موجود دہشت گرد گروہوں کو تہران سے بھیجے جاتے تھے۔

تفصیلات کے مطابق 9,000 سے زیادہ رائفلیں، 284 مشین گنیں، تقریباً 194 راکٹ لانچر، 70 سے زیادہ اینٹی ٹینک گائیڈڈ میزائل اور 700,000 سے زیادہ گولہ بارود امریکی بحریہ نے نامعلوم بحری جہازوں کو روک کر قبضے میں لیا: ایسے دو جہاز 2022ء میں اور دو 2023ء میں روک کر قبضے میں لیے گئے تھے۔

محکمۂ انصاف نے جمعرات کو ایک بیان میں بتایا کہ"ان پابندیوں کے نتیجے میں روایتی ہتھیاروں کے چار بڑے ذخیرے (کھیپ) دریافت اور ضبط ہوئے، جن میں طویل ہتھیار اور ٹینک شکن میزائل، اور اس سے متعلقہ جنگی ساز وسامان شامل ہیں جن کے بارے میں قوی خیال ہے کہ یہ بنیادی طور پر ایرانی، چینی یا روسی ساختہ ہیں۔"

اس سال یہ دوسرا موقع ہے جب امریکی حکومت نے ضبطی کی کارروائی کے لیے درخواست دائر کی ہے۔ مارچ میں، امریکہ نے ایران سے یمن (کو بھیجے جانے والے) اور قبضے میں لیے گئے گولہ بارود کے 10 لاکھ راؤنڈز کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی تھی۔

محکمہ انصاف نے کہا کہ پابندی شدہ ایرانی گروہوں کی طرف سے ہتھیاروں کی غیر قانونی اسمگلنگ کا نیٹ ورک یمن میں حوثیوں کی فوجی کارروائی کی مدد اور حمایت کر رہا ہے۔ نیز اس سے پورے خطے میں ایرانی حکومت کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کو بھی حمایت ملتی ہے۔

محکمہ انصاف نے کہا کہ"ہتھیار ضبطی کی شکایت میں الزام لگایا گیا ہے کہ سپاہ پاسداران اسلامی انقلاب (آئی آر جی سی) کی جانب سے خفیہ طور پر ایسے اداروں کو ہتھیار بھیجنے کا ایک منصوبے تھا جو امریکی قومی سلامتی کے لیے شدید خطرات کا باعث ہیں۔"

اسسٹنٹ اٹارنی جنرل، میتھیو اولسن نے کہا کہ تہران، سپاہ پاسداران اسلامی انقلاب (IRGC) کے ذریعے جنگجو گروپوں کو جنگی ہتھیار اسمگل کرنے کی (روش) پر بضد ہے۔ اور یہ امریکی پابندیوں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

اولسن نے کہا، "جیسا کہ یہ قبضہ ظاہر کرتا ہے، محکمہ انصاف ہمارے امریکی حکومت کے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے گا تاکہ ایرانی حکومت کو ہماری قوم کے مفادات کو نقصان پہنچانے اور ہمارے لوگوں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے سے روکا جا سکے۔"

سابقہ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ امریکہ ایران سے پکڑے گئے ہتھیار یوکرین کو بھیجنا چاہتا تھا۔ جنوری میں، امریکی اور فرانسیسی افواج نے ایک جہاز کو روکا تھا جس پر ہزاروں اسالٹ رائفلیں، ٹینک شکن میزائل اور گولہ بارود کے 500,000 راؤنڈز موجود تھے۔

امریکی افواج نے اپنے خلیجی اور عرب اتحادیوں کے ساتھ مل کر خطے کے پانیوں کی نگرانی کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔ یو ایس سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ انہوں نے دسمبر اور جنوری میں چار "اہم غیر قانونی کارگو کو روکنے کی کارروائیاں" انجام دیں، جن سے 5,000 سے زیادہ ہتھیار اور 1.6 ملین گولہ بارود کو یمن پہنچنے سے روک لیا گیا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق، سینٹرل کمانڈ فورسز نے دسمبر میں بحیرہ عرب میں بغیر پرچم کے ایک جہاز سے یہ ہتھیار قبضے میں لیے تھے۔

محکمہ انصاف نے کہا کہ ضبطی میں 7.62mmx54mm گولہ بارود کے 1.063 ملین راؤنڈ؛ 12.7mmx99mm گولہ بارود کے 24,000 راؤنڈ؛ راکٹ سے چلنے والے دستی بموں (RPGs) کے لیے 6,960 proximiry فیوز، اور راکٹ سے چلنے والے دستی بموں کے لیے 2,000 کلو گرام پروپیلنٹ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں