سعودی ویژن 2030

سعودی خواتین کو ویژن 2030 میں اوّلین ترجیح حاصل ہیں:نائب وزیرتجارت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کی نائب وزیر تجارت نے جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے 53 ویں اجلاس کے موقع پر منعقدہ ایک تقریب میں کہا ہے کہ سعودی ویژن 2030 میں تمام شعبوں میں خواتین کی شرکت کو ترجیح دی گئی ہے۔

سرکاری سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر ایمان بنت ہبّاس المطیری نے اپنی تقریر میں خواتین کو بااختیار بنانے اور مملکت کی اقتصادی ترقی میں ان کی شرکت کو بڑھانے کے لیے قومی کاوشوں پر روشنی ڈالی ہے۔

سعودی انسانی حقوق کمیشن کی رکن لمی غزّاوی کی زیر نگرانی منعقدہ مکالمے میں المطیری نے کہا:’’ سعودی خواتین ملک میں تبدیلی کے عمل میں مرکزومحور ہیں‘‘۔

انھوں نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ مملکت کی ترقی میں خواتین کی شرکت ویژن 2030 کے اہداف میں سے ایک ہے۔ اس ضمن میں ایسے اقدامات وضع کیے گئے ہیں جو خواتین سے متعلق پالیسیوں کی تائید کرتے ہیں اور خواتین کو وزارتی اور سفیر کی سطح پر عہدے حاصل کرنے اور شوریٰ کونسل کے رکن بننے میں مدد دیتے ہیں۔

ڈاکٹر ایمان المطیری نے جنیوا میں  نیکول امیلین سے ملاقات کی ہے ۔
ڈاکٹر ایمان المطیری نے جنیوا میں نیکول امیلین سے ملاقات کی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں سعودی عرب نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے متعارف کردہ ویژن 2030 کے تحت خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کو فروغ دینے کے لیے اہم اقدامات کیے ہیں۔

مملکت کا مقصد خواتین مرتکز متعدد پروگراموں کے نفاذ کے ذریعے صنف نازک کو ترقی کے زیادہ سے زیادہ مواقع مہیاکرنا ہے۔ان میں افرادی قوت میں خواتین کی شرکت میں اضافہ، قائدانہ عہدوں تک رسائی میں توسیع، بہتر تعلیم اور تربیت، اور کھیلوں اور تفریح میں فعال شرکت کو فروغ دینا شامل ہے۔

کانفرنس ہال کا منظر
کانفرنس ہال کا منظر

ڈاکٹر ایمان المطیری نے کہا کہ 2022 میں سعودی عرب میں کاروباری شعبے میں اعلیٰ اور درمیانی سطح کے عہدوں پر خواتین کی تعداد 41 فی صد تھی۔

انھوں نے مزید کہا کہ 9،000 سے زیادہ سعودی خواتین رہنماؤں کو قومی پلیٹ فارم (قیادیات) میں رجسٹر کیا گیا ہے۔اس کا مقصد مملکت کی خواتین کی حمایت کرنا اور ان کی کامیابی کی کہانیوں کو دستاویزی شکل دینا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں