سوڈان کے ام درمان پر فضائی حملے میں 22 افراد ہلاک: وزارت صحت سوڈان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

خرطوم کی سرکاری وزارت صحت نے ہفتے کے روز بتایا ہے کہ مغربی ام درمان پر سوڈانی فوج کے فضائی حملے میں کم از کم 22 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے، جبکہ ملک کے متحارب فوجی دھڑوں کے درمیان جنگ 12ویں ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔

فوج نے فضائی اور توپ خانے سے حملے شروع کر دیئے ہیں جبکہ نیم فوجی سریع الحرکت فورسز (RSF) نے 15 اپریل کو لڑائی شروع ہونے کے بعد دارالحکومت خرطوم اور اس کے جڑواں شہروں اومدرمان اور بحری پر تیزی سے غلبہ حاصل کر لیا ہے۔

خطرہ ہے کہ جس لڑائی کے لیے اب تک ثالثی کی کوئی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکی ہیں، یہ ملک کو ایک وسیع خانہ جنگی کی طرف لے جا سکتی ہے۔ اس طرح دیگر اندرونی و بیرونی عوامل کی توجہ بھی مشرقی افریقہ کے اس ملک کی طرف ہو جائے گی جو ہارن آف افریقہ، ساہل، اور بحیرہ احمر کے درمیان واقع ہے۔

جمہوریت کی جانب اٹھنے والے نئے قدم کے تحت چین آف کمانڈ اور اپنی افواج کے انضمام کے معاملے پر فریقین کے درمیان کشیدگی حالیہ مہینوں میں بڑھ گئی تھی جو جنگ کی طرف لے جانے کا سبب گئی۔

وفاقی وزارتِ صحت کے مطابق، جو لڑائی دارالحکومت، اور کوردفان اور دارفر کے علاقوں میں بھڑک اٹھی تھی، اس میں کم از کم 1133 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس سے مغربی دارفر کے علاقے میں نسلی فسادات شروع ہو گئے۔

2.9 ملین سے زیادہ لوگ بےگھر ہو چکے ہیں، جن میں تقریباً 700,000 ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو (پناہ کے لیے) ہمسایہ ممالک کی طرف بھاگ گئے ہیں۔

امدادی اداروں کے مطابق، اس کی وجہ سے خواتین اور لڑکیوں کی عصمت دری اور اغوا کی تعداد بھی "خطرناک" حد تک بڑھ گئی ہے۔

حالیہ دنوں میں لڑائی کا مرکز ام درمان رہا ہے کیونکہ شہر کا مغربی حصہ RSF کے لیے ایک اہم راستہ ہے جس کے ذریعے وہ اپنے طاقت کے مرکز، دارفور سے کمک حاصل کرتے ہیں۔

مشرقی ام درمان میں ملک کے سرکاری نشریاتی کمپلیکس پر بھی رات کو حملے کیے گئے جن میں جمعہ کی رات والا حملہ بھی شامل ہے۔ راتوں رات کیے گئے دیگر حملے جنوبی اور مشرقی خرطوم میں ہوئے۔

فوج نے فیس بک پر ایک پوسٹ میں کہا کہ خصوصی دستوں نے 20 "باغی فوجیوں" کو ہلاک اور ان کے ہتھیاروں کو تباہ کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں