ٹیکساس والمارٹ میں 23 افراد قتل کرنیوالے کو 90 مرتبہ عمر قید کی سزا سنا دی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ میں ایک وفاقی جج نے 2019 میں ٹیکساس والمارٹ میں فائرنگ کرکے 23 افراد کو قتل اور 22 کو زخمی کرنے والے سفید فام بالادستی پر یقین رکھنے والے نوجوان کو مسلسل 90 مرتبہ عمر قید کی سزا سنا دی۔

جمعہ کے روز ایل پاسو میں امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیوڈ گوڈراما کی طرف سے سنائی گئی سزا فروری سے ایک درخواست کے معاہدے کی پاسداری کرتی ہے جس میں 24 سالہ شوٹر پیٹرک کروسیئس نے جرم قبول کیا اور وفاقی سزائے موت سے بچنے کے لیے مسلسل 90 عمر قید کی سزا پر رضامندی ظاہر کی۔ شوٹر کو اب بھی ٹیکساس ریاست کے الزامات کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں سزائے موت ہو سکتی ہے۔

اس کی سزا سے قبل عدالت میں فائرنگ میں زخمی ہونے والوں اور مرجانے والوں کے لواحقین نے دو روز تک جذباتی بیانات دیے۔ شوٹر کی موجودگی میں ان بیانات نے بڑا اثر مرتب کیا۔

جینیس ڈیویلا نے عدالت میں کہا "میں تمہیں مارنا چاہتی ہوں‘‘ ۔ جینیس فائرنگ کے وقت 12 سال کی تھی اور اس واقعہ میں

اس کا فٹ بال کوچ مارا گیا تھا اور اس کے والد زخمی ہوئے تھے۔ جینیس نے مزید کہا میں تم سے بہت نفرت کرتی ہوں، جہنم میں آپ کے لیے ایک خاص جگہ ہے۔ اس بیان کو مقامی ٹی وی نے لائیو نشر کیا۔

واقعہ میں اپنے والد الیگزینڈر ہوفمین کو کھو دینے والے تھامس ہوفمین نے عدالت میں شوٹر کو مخاطب کرکے کہا شریر بچے، تم اپنے ہتھیار کے بغیر کچھ بھی نہیں ہو۔

یہ واقعہ سرحدی شہر ایل پاسو میں 3 اگست 2019 کو قتل عام کو انجام دیا گیا۔ شوٹر نے اے کے 47 سے فائرنگ کی تھی۔

حملے سے ٹھیک پہلے شوٹر نے انٹرنیٹ پر ایک منشور پوسٹ کیا تھا جس میں اس نے اعلان کیا کہ "یہ حملہ ٹیکساس پر ہسپانوی حملے کا جواب ہے۔ میں صرف اپنے ملک کی ثقافتی اور نسلی تبدیلی کے خلاف لڑ رہا ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں