روس اور یوکرین

کینیڈا نے امریکا کے یوکرین کو موعودہ کلسٹربموں کے استعمال کی مخالفت کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

کینیڈا نے امریکا کی جانب سے یوکرین کو مہیا کیے جانے والے کلسٹر گولہ بارود کے استعمال کی مخالفت کردی ہے اور اس نے کلسٹربموں کے استعمال پر پابندی سے متعلق اوسلو معاہدے کی پاسداری کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

کینیڈا کی حکومت نے ہفتے کے روز یہ بیان واشنگٹن کی جانب سے یوکرین کو قابض روسی افواج کے خلاف جوابی کارروائی کے لیے کلسٹر بم مہیا کرنے کے وعدے کے بعد جاری کیا ہے۔

امریکا نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ وہ یوکرین کو 80 کروڑ ڈالر کے نئے سکیورٹی پیکج کے حصے کے طور پر ممنوعہ بم مہیا کرے گا۔اس اسلحہ اور گولہ بارود کی ترسیل سے فروری 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے امریکا کی مجموعی طور پر فوجی امداد کی مالیت 40 ارب ڈالر سے متجاوز ہوجائے گی۔

یوکرین نے امریکی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے یوکرین کے علاقوں کو آزاد کرانے میں مدد ملے گی، لیکن وعدہ کیا ہے کہ اس گولہ بارود کو روس میں استعمال نہیں کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ کلسٹر گولہ بارود اور بم عام طور پر بڑی تعداد میں چھوٹے چھوٹے بم چھوڑتے ہیں جو وسیع علاقے میں اندھا دھند مار کر سکتے ہیں۔ نیزجو کلسٹربم پھٹنے میں ناکام رہتے ہیں وہ تنازع کے خاتمے کے بعد دہائیوں تک خطرہ بنے رہتے ہیں۔

کینیڈا کی حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ہم کلسٹر گولہ بارود کے استعمال کی حمایت نہیں کرتے اور کلسٹر گولہ بارود کے شہریوں بالخصوص بچّوں پر پڑنے والے اثرات کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں‘‘۔

امریکا کے ایک اور اتحادی جرمنی اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی واشنگٹن کی جانب سے یوکرین کو کلسٹر گولہ بارود بھیجنے کی مخالفت کی ہے۔کلسٹر گولہ بارود سے متعلق کنونشن کے تحت ان بموں کے استعمال پر پابندی ہے۔اس کنونشن کو 2008 میں اوسلو میں دست خطوں کے لیے کھولا گیا تھا۔ لیکن اب تک 100 سے زیادہ ممالک نے دست خط کیے ہیں ، روس ، یوکرین اور امریکا نے اس کنونشن پر دست خط نہیں کیے ہیں۔اس کنونشن کے تحت ایسے ہتھیاروں کی تیاری ، ذخیرہ اندوزی ، استعمال اور منتقلی پر پابندی عاید ہے۔

حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ کینیڈا جنیوا کنونشن کی مکمل پاسداری کرتا ہے اور ہم کنونشن کے تحت اپنی ذمے داری کو سنجیدگی سے لیتے ہیں تاکہ عالمی سطح پراس کی تعمیل کی حوصلہ افزائی کی جاسکے۔

وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کی لبرل حکومت یوکرین کے حق میں سب سے زیادہ آواز اٹھانے والوں میں سے ایک ہے اور اس نے گذشتہ سال سے اب تک یوکرین کو اربوں ڈالر کی مالی، فوجی، انسانی اور دیگر امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں