میکسکو میں لرزہ خیز واقعہ، بیوی کو قتل کیا، دماغ کھایا اور کھوپڑی سے ایش ٹرے بنا لی

لاش کے کچھ حصہ اس نے کھا لیا، باقی قریبی ڈھلوان کے بیابان میں پلاسٹک کے تھیلوں میں چھپا دیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

میکسکو میں ایک لرزہ خیز واقعہ سامنے آگیا۔ ایک سفاک شخص نے اپنی بیوی کو قتل کیا، اس کا دماغ کچا لیا اور کھوپڑی سے ایش ٹرے بنا لی۔

میکسیکو میں پولیس نے گزشتہ ہفتے 35 سال کے ’’الوارو سیمیٹ‘‘ کو بدترین الزام میں گرفتار کرلیا۔ ان الزامات کے تحت سیمیٹ نے 29 جون کو اپنی بیوی کو قتل کر دیا۔ پھر اس کا دماغ کچا کھایا اور اس کی کھوپڑی سے ایک ایش ٹرے بنا لی۔ مقامی میڈیا نے پوئبلا میں ’’ انسانی گوشت کھانے والا‘‘ کا لقب دیا ہے۔ وہ جنوبی وسطی میکسیکو میں پوئبلا شہر میں اپنی بیوی کے ساتھ رہ رہا تھا۔

قاتل ’’الوارو سیمیٹ‘‘ نے پولیس تفتیش کاروں کو بتایا کہ شیطان نے اسے اس کی بیوی ’’ماریہ مونٹیل‘‘ کو قتل کرنے کو کہا تھا۔ میری بیوی مجھ دو سال بڑی تھی۔ اس لیے میں نے بات مانی اور اس کی لاش کے ٹکڑے کر دیے۔ اس کے بہت سے اعضاء کو اپنے پاس رکھا اور گھر میں کھا لیا۔ باقی اعضا کو پلاسٹک کے تھیلوں میں ڈال کر قریبی بیابان میں چھپا دیا۔ دو دن بعد اس نے سابق شوہر سے اپنی بیوی کی ایک بیٹی کو بلایا اور اس سے اعتراف کیا کہ اس نے جرم کیا ہے۔

اس حوالے سے جاری ایک ویڈیو میں مقتولہ کی ماں نظر آرہی ہیں جو اپنی بیٹی کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ قتل کی جانے والی خاتون کی سابق شوہر سے پانچ بیٹیاں تھیں۔ اس کی بیٹیوں کی عمریں 12 سے لے کر 23 سال کے درمیان ہیں۔ ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے مطابق مقتولہ کی ماں نے بتایا کہ مقتولہ ’’ماریہ مونٹیل‘‘ کی دو سب سے چھوٹی بیٹیاں بھی اپنی ماں اور اس کے قاتل شوہر کے ساتھ رہتی تھیں۔

قتل کی جانے والی ماریہ کی ماں نے یہ بھی بتایا کہ اس کی بیٹی کا دماغ کھانے کے لیے اس کے سفاک شوہر سیمیٹ نے اس کے جسم کو چاقو اور ہتھوڑے سے کاٹ دیا تھا۔ جمعرات 6 جولائی کو میکسیکو کے میڈیا نے اطلاع دی کہ پولیس کو گھر کا ایک کونا ملا جہاں مقتولہ اور اس کے شوہر کے پاس کالے جادو کے لیے بنائی گئی قربان گاہ تھی۔ اس مقام سے ایسے شواہد ملے ہیں کہ سفاک شوہر نے اپنی بیوی پر تشدد کیا تھا۔ اس کے سر سے خون بہ رہا تھا جب اس نے اسے مار ڈالا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں