پوتین کے وارنٹ گرفتاری کے باوجود برکس سربراہ اجلاس بالمشافہہ منعقد ہوگا: جنوبی افریقا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی افریقا کے صدر سیرل رامفوسا نے واضح کیا ہے کہ اگلے ماہ برکس سربراہ اجلاس روسی صدر ولادی میرپوتین کے خلاف وارنٹ گرفتاری کے باوجود بالمشافہہ منعقد کیا جائے گا۔

رامفوسا نے اتوار کو جنوبی افریقا کی حکمراں جماعت اے این سی کی کانفرنس کے موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ برکس سربراہ اجلاس کی تیاریاں آگے بڑھ رہی ہیں اور ہم اس فارمیٹ پر اپنی بات چیت کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔

انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ روس کی جانب سے یوکرین کے بچّوں کو غیرقانونی طور پر ملک بدر کرنے کے الزامات پر بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کو مطلوب صدرپوتین اس اجلاس میں شرکت کریں گے یا نہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہم بالمشافہہ برکس سربراہ اجلاس منعقد کرنے جا رہے ہیں، ہم سب ایک ایسے سربراہ اجلاس کے انعقاد کے لیے پرعزم ہیں جہاں ہم ایک دوسرے کی توجہ حاصل کرسکیں گے۔

انھوں نے کہا 'ہم نے گذشتہ قریباً تین سال کے دوران میں بالمشافہہ سربراہ کانفرنس کا انعقاد نہیں کیا ہے اور اس مرتبہ یہ مجازی نہیں ہونے جا رہا ہے‘‘۔

جنوبی افریقا آئی سی سی کا رکن ہے اور اس حیثیت میں اس سے توقع کی جاتی ہے کہ اگر صدرپوتین اس ملک میں قدم رکھتے ہیں تو انھیں گرفتارکرلیا جائے گا۔

اس کے پیش نظرمقامی میڈیا میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ جنوبی افریقا برکس مذاکرات کو چین منتقل کرنے پر غور کر رہا ہے تاکہ وہ صدر پوتین کو گرفتار کرنے کے لیے کسی دباؤ کی زد میں نہ آسکے۔وارنٹ گرفتاری اس کے لیے ایک مسئلہ ہے اور وہ نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کے برسوں میں کریملن کے قریب رہا ہے۔

جنوبی افریقا نے یوکرین پر روس کے حملے کی مذمت بھی نہیں کی ہے اور کہا ہے کہ وہ غیر جانبدار ہے اور بحران کے حل کے لیے بات چیت کو ترجیح دیتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں