سویڈن کی نیٹو رُکنیت؛اسٹولٹن برگ نے ترکیہ کی یورپی یونین میں شمولیت کی حمایت کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ نے ترکیہ کی یورپی یونین کی رکنیت کے حصول کی حمایت کردی ہے جبکہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے اپنے ملک کی یورپی یونین میں شمولیت کے بدلے ہی میں سویڈن کی نیٹو میں رکنیت کی کوشش کی توثیق کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اس حوالے سے جب اسٹولٹن برگ سے سوموار کو سوال پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’’میں ترکیہ کے یورپی یونین کا رکن بننے کے عزائم کی حمایت کرتا ہوں‘‘۔اس کے بعد انھوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سویڈن نے ترکیہ کے دہشت گردی سے متعلق تمام خدشات کو دور کردیا ہے اور ہمیں یہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ ہم نے میڈرڈ میں (گذشتہ سال کے سربراہ اجلاس میں) جن شرائط پر اتفاق کیا تھا،وہ مطالبات کی ایک مخصوص فہرست تھی جو سویڈن کو اتحاد کا مکمل رکن بننے کے لیے پورا کرنا تھی اور سویڈن نے ان شرائط کو پورا کیا ہے اور یہ ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندیوں کو ہٹانے کے بارے میں ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ سویڈن نے اپنے آئین میں ترمیم کی ہے،انسداد دہشت گردی کے قوانین کو مضبوط کیا ہے اور وہ ترکیہ کی طرف سے سلامتی سے متعلق جائز خدشات کو دور کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ ترکیہ نے سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی توثیق کرنے سے انکار کر دیا تھا۔اس نے یہ اعتراض کیا تھا کہ اسٹاک ہوم کرد عسکریت پسندوں کے گروپ پی کے کے کی حمایت کرتا ہے اور اس نے اس کے ارکان کو پناہ دے رکھی ہے جبکہ انقرہ کردستان ورکرزپارٹی کو ایک دہشت گرد تنظیم سمجھتا ہے اور وہ درجنوں مشتبہ "دہشت گردوں" خاص طور پر فتح اللہ گولن کے پیروکاروں کی حوالگی میں بھی ناکام رہا ہے۔ان پر انقرہ نے 2016 کی حکومت مخالفت ناکام بغاوت میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا تھا۔

ترکیہ نے گذشتہ سال میڈرڈ سربراہ اجلاس میں سویڈن اور فن لینڈ کے ساتھ سلامتی اور انسداد دہشت گردی سے متعلق مفاہمت کی ایک یادداشت پر دست خط کیے تھے۔اس کے تحت دونوں یورپی ممالک نے انقرہ کے خدشات کو دور کرنے سے اتفاق کیا تھا۔

اسٹولٹن برگ نے کہا کہ وہ طیب ایردوآن اور سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن سے ملاقات کریں گے۔ یہ اب بھی ممکن ہے کہ ویلنیئس میں سویڈش رکنیت کے بارے میں ایک مثبت فیصلہ کیا جائے۔ ہمیں کوئی یقین نہیں ہے. ہمارے پاس کوئی ضمانت نہیں ہے لیکن ظاہر ہے کہ اب ہم سربراہ اجلاس میں شریک ہوں گے اور ہم اس عرصے کو زیادہ سے زیادہ پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے استعمال کریں گے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوان نے قبل ازیں کہا ہے کہ وہ ولینیئس میں ہونے والے نیٹو سربراہ اجلاس میں اس بات پر زور دیں گے کہ انقرہ کی یورپی یونین کی رکنیت کے لیے راہ ہموار کی جائے تاکہ ترکیہ سویڈن کی نیٹو رکنیت کی راہ ہموار کر سکے۔

انھوں نے کہا کہ نیٹو کے قریباً تمام رکن ممالک اب یورپی یونین کے بھی رکن ہیں۔میں ان ممالک کو پکار رہا ہوں جنھوں نے ترکیہ کو 50 سال سے زیادہ عرصے سے یورپی یونین کے دروازے پر انتظار میں رکھا ہوا ہے‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ’’سب سے پہلے، آئیے یورپی یونین میں ترکیہ کی راہ ہموار کریں، اور پھر ہم سویڈن کے لیے اسی طرح راہ ہموار کریں گے جیسے ہم نے فن لینڈ کے لیے کیا تھا‘‘۔

ترکیہ ایک طویل عرصے سے یورپی یونین کی رکنیت کی خواہش پر عمل پیرا ہے۔ یورپی یونین میں شامل ہونے کی خواہش کا سراغ 1960 کی دہائی سے لگایا جاسکتا ہے ، جب اس نے پہلی بار ایسوسی ایٹ رکنیت کے لیے درخواست دی تھی۔ اس کے بعد سے ترکیہ نے اپنے سیاسی ، معاشی اور معاشرتی نظام کو یورپی یونین کے معیارات اور ضوابط کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کے لیے اہم کوششیں کی ہیں۔ ان کوششوں میں مختلف اصلاحات پر عمل درآمد شامل ہے، جیسے اس کے قانونی فریم ورک کو جدید بنانا، انسانی حقوق کے تحفظ کو بہتر بنانا اور جمہوری اداروں کو بڑھانا شامل ہے۔

تنظیم میں شمولیت کے عمل میں متعدد چیلنجوں اور تاخیر کا سامنا کرنے کے باوجود ، ترکیہ یورپی یونین کی رکنیت کے اپنے مقصد کے لیے پرعزم ہے۔ وہ اسے یورپ کے ساتھ اپنے تعلقات کو مضبوط بنانے ، اقتصادی تعاون بڑھانے اور علاقائی استحکام میں کردار ادا کرنے کے موقع کے طور پر دیکھتا ہے۔ تاہم، ترکیہ کے لیے یورپی یونین کی رکنیت کا راستہ پیچیدہ اور مختلف بحثوں اور مذاکرات سے مشروط ہے، یہ عمل اب بھی جاری ہے اور اس کے نتائج غیر یقینی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں