نشست کی وجہ سے طیارے میں دو مسافروں کا جھگڑا، پرواز تاخیر کاشکار: واقعےکی ویڈیو وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوشل میڈیا پر ایک ہوائی جہاز میں پرواز سے قبل دو مسافروں کے درمیان ہونے والی لڑائی کی ویڈیو تیزی کے ساتھ وائرل ہو رہی ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو اصلی ہے اور دو مسافروں کے درمیان مسافر پرواز میں یہ جھگڑا اس وقت ہوا جب پرواز مالٹا سے لندن جانے کے لیے تیار تھی۔اس واقعے کی مزید تفصیل سامنے آنے کے بعد پتا چلا کہ لڑائی کی وجہ معمولی تھی مگر یہ تلخ کلامی سے تیزی سے ہاتھا پائی کی صورت اختیار کر گئی۔

یہ جھگڑا اس وقت ہوا جب طیارے میں مسافر سوار ہو رہے تھے۔ دونوں مسافروں کے لڑنے کے بعد دوسری سواریوں نے بیچ بچاؤ کی کوشش کی اور ویڈیو میں انہیں دست وگریباں مسافروں کو چھڑانے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

مالٹا سے لندن سٹینسٹڈ ہوائی اڈے پر ’ریان ایئر‘ کی پرواز پر میں بنائی گئی فوٹیج میں دو مسافروں کو لڑتے ہوئے دکھایا گیا ہے جب دوسرے مسافر انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

برطانوی اخبار "ڈیلی مرر" کی طرف سے شائع ہونے والی ویڈیو "العربیہ ڈاٹ نیٹ" نے بھی نشر کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق معلوم ہوا کہ دونوں مسافروں کے درمیان جھگڑے کی اصل وجہ سیٹوں کا تنازع تھا۔ دونوں مسافر کھڑکی کی طرف والی سیٹ پر بیٹھنا چاہتے تھے مگر دونوں میں یہ معمولی اختلاف لڑائی کی شکل اختیار کر گیا۔

ایک مسافر نیل مڈواڈیا جو 3 جولائی کو مالٹا سے لندن اسٹینسٹڈ کی پرواز میں تھے نے دعویٰ کیا کہ لڑائی اس وقت شروع ہوئی جب ایک مسافر نے دوسرے کو سیٹ پر بیٹھنے سے روکا۔

مسافر کی ویڈیو میں کسی کو دو آدمیوں کو لڑائی بند کرنے کو کہتے ہوئے اور پس منظر میں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: "ہم کبھی گھر نہیں جائیں گے"۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جھگڑے سے پورے سفر کو خطرہ تھا۔

فوٹیج میں مسافروں کی چیخیں سنی جا سکتی ہیں، جب کہ ایک اور شخص دونوں سواریوں کو "چپ رہنے" کی تلقین کر رہا ہے۔

ویڈیو میں یہ بھی دکھائی دے رہا ہے کہ عملے کا ایک رکن دونوں کو الگ کرنے کی کوشش میں کیبن سے نکل کرآیا۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ حادثے کی وجہ سے پرواز میں دو گھنٹے کی تاخیر ہوئی اور ہر کوئی "پریشان" تھا۔ اس نے مزید کہا۔ "بائیں طرف چھوٹا آدمی امریکی تھا اور دوسری طرف لمبا شخص تھا جس کا تعلق برطانیہ سےتھا۔

لندن سٹینسٹیڈ ایئرپورٹ نے واقعے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی برطانوی پولیس نے کوئی تبصرہ جاری کیا۔ ابھی تک ایئرلائن بھی خاموش رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں