نیویارک میں دو الگ واقعات میں اردن اور یمن کے دو شہریوں کا قتل، ویڈیوز آگئیں

دو نقاب پوشوں نے سٹور میں داخل ہوکر اردنی کو فائرنگ کرکے مار دیا، سائیکل پر جاتے یمنی کو عقب سے گولی ماری گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

نیو یارک میں ہفتہ کے روز دو الگ واقعات میں اردن اور یمن کے دو شہریوں کو بہیمانہ انداز میں قتل کردیا گیا ۔ ان دونوں واقعات کی ویڈیوز سامنے آگئی ہیں۔ ایک واقعہ میں نیویارک کے انتہائی جنوب میں ’’اسٹیٹن آئی لینڈ‘‘ کے علاقے میں چھ ماہ قبل قائم ایک سٹور کے اندر اردنی شہری کے قتل سے متعلق ویڈیو سامنے آئی ہے۔ دوسری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بروکلین کے مشہور محلے جمیکا ایونیو پر یمنی شہری سائیکل پر جا رہا تھا کہ اسے عقب سے گولی مار کر قتل کردیا گیا۔

مقتول اردنی بسام عبدالرحمٰن الخطیب کے بارے میں امریکی میڈیا اور اردنی ویب سائٹ پر جو کچھ بتایا گیا۔ مختصر طور پر اس کے بھائی انس اور کزن محمد نے بتایا کہ بسام خطیب اربد شہر میں رہنے والا ایک ریٹائرڈ فوجی اور دو بچوں کا باپ تھا۔ 2015 میں ملازمت کے مواقع کی تلاش میں امریکہ چلا گیا اور وہاں اس نے اپنا سپر سٹور قائم کرلیا۔ ’’ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے مطابق اس کے سپر سٹور کا نام ’’ مینور ڈیلی اینڈ کنوینیئس‘‘ تھا۔ وہ یہاں لگ بھگ ہر طرح کی چیز فروخت کرتا تھا۔

نگران کیمرے سے حاصل ویڈیو کے مطابق دو نقاب پوش افراد ہفتے کی شام 7 بج کر 27 منٹ پر سٹور میں داخل ہوئے۔انہوں نے 35 سالہ بسام خطیب کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور پیسوں کا ڈبہ اور کچھ سامان چوری کر لیا۔ پھر رات کے اندھیرے میں فرار ہوگئے۔ پولیس نے تصدیق کی کہ قتل کا مقصد چوری تھا۔ اردن کی وزارت خارجہ واشنگٹن میں اپنے سفارت خانے کے ذریعے اس سے تفتیش جاری رکھے ہوئے ہے۔

جہاں تک یمنی کا تعلق ہے وہ ان 4 افراد میں سے ایک تھا جنہیں امریکی تھامس ابریو نے نشانہ بنایا جب وہ نیویارک میں مختلف مقامات پر موٹرسائیکل پر جا رہے تھے۔ ان میں سے تین بے ترتیب گولیوں سے زخمی ہوئے اور یمنی باشندے شیخ حمود علی الصایدی جاں بحق ہوگیا۔ ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کے مطابق حمود کی عمر 87 سال تھی۔ وہ بروکلین کے پڑوس میں جمیکا ایونیو پر واقع "بیت الغفار" مسجد سے نکل رہے تھے۔ تھامس اس کے قریب پہنچا اور انہیں پیچھے سے گولی مار دی۔

Yemen
Yemen

یمنی ویب سائٹس پر بھی یہ اطلاع دی گئی تھی، جس میں فیس بک پر "امریکہ میں یمنی تارکین وطن کا پیچ" بھی شامل ہے۔ یمنی ویب سائٹس پر بتایا گیا کہ حمود کی عمر 87 سال نہیں بلکہ 65 سال ہے اور اس کا تعلق ’’اب‘‘ گورنریٹ کے ضلع "الشعر" سے ہے۔ اس کا 25 سالہ قاتل پولیس کی گرفت میں ہے۔ قاتل نے گلیوں میں چلنے والے افراد پر فائرنگ شروع کردی تھی۔

امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک سی بی ایس نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حمود کی عمر 87 برس ہے اور ان کے اہل خانہ نے آج پیر کو اس جگہ پر احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا جہاں پر انہیں قتل کیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں