اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل اہانت قرآن کے معاملے پر اختلاف کا شکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوامِ متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل سویڈن میں قرآن کو نذر آتش کرنے کے تناظر میں مذہبی منافرت سے متعلق ایک متنازعہ مسودہ پر بحث کرنے والی ہے۔ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اختلافات سامنے آئے ہیں اور یہ انسانی حقوق کے تحفظ کے طریقوں کو چیلنج کرتی ہے۔

ستاون ممالک پر مشتمل اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کی جانب سے پاکستان نے ایک قرارداد کا مسودہ قرارداد پیش کیا۔ قرارداد میں گذشتہ ماہ اسٹاک ہوم میں قرآن کو نذر آتش کرنے کے اقدام کو "جارحانہ، ہتک آمیز، اور اشتعال انگیزی کا ایک واضح عمل" قرار دیا گیا ہے جو مذہبی منافرت کو ہوا دیتا ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

اس مسودے میں "کچھ یورپی اور دیگر ممالک میں عوام کے سامنے بار بار قرآن کی تقدس کی پامالی" کی مذمّت کی گئی ہے -چند مغربی سفارت کاروں کی طرف اس مسودے کو مخالفت کا سامنا ہے جن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ اس کا مقصد مذہبی علامات کا تحفظ کرنا ہے، نہ کہ انسانی حقوق کا۔

"ہمیں اس کی تحریر پسند نہیں آئی۔" ایک مغربی سفارت کار نے مسودے کے بارے میں کہا جو منگل کو جنیوا میں انسانی حقوق کونسل کے سامنے پیش کیا جانا ہے۔ "انسانی حقوق کا تعلق افراد سے ہوتا ہے نہ کہ مذاہب سے۔"

اسلامی تعاون تنظیم کے اس اقدام نے مغربی ریاستوں اور تنظیم کے درمیان کشیدگی بھی پیدا کر دی ہے۔ یہ کشیدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اس تنظیم کو کونسل میں غیر معمولی اثر و رسوخ حاصل ہے۔ یاد رہے کہ انسانی حقوق کونسل دنیا بھر میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے حکومتوں پر مشتمل واحد ادارہ ہے۔

اسلامی تعاون تنظیم کے 19 ممالک اس وقت 47 رکنی کونسل کے ووٹ دینے والے ارکان ہیں اور دیگر ممالک مثلاً چین نے اس مسودے کی حمایت کی ہے۔

یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ کیا پاکستان، اسلامی تعاون تنظیم کے تمام ارکان کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے یا نہیں۔ 2021ء میں یمن میں جنگی جرائم کی تحقیقات کو ختم کرنے کے لیے سعودی قیادت کی کوشش کامیاب ہوئی تھی۔

"اگر یہ قرارداد منظور ہو جاتی ہے، جیسا کہ نظر آ رہا ہے، تو اس تأثر کو تقویت ملے گی کہ کونسل اپنا نکتۂ نظر (زور زبردستی سے) بیان کر رہی ہے۔ اور آزادئ اظہار اور نفرت انگیز تقریر کے درمیان حد فاصل، اور کیا مذاہب کے بھی حقوق ہیں، ان جیسے اہم اور کلیدی مباحث پر مغرب کے قدم اکھڑ رہے ہیں۔"

جنیوا میں قائم یونیورسل رائٹس گروپ کے ڈائریکٹر، مارک لیمن نے کہا کہ اس سے کونسل کے ارکان غصے سے پھٹ سکتے ہیں۔ یورپی یونین نے فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کریں۔

ایک یورپی سفارت کار نے گذشتہ ہفتے مذاکرات میں کہا کہ "مذاہب کی توہین اقوام متحدہ میں کئی عشروں سے ایک مشکل موضوع رہا ہے۔ "آزادئ اظہار اور نفرت پر اکسانے کے درمیان لکیر کہاں کھینچی جائے، یہ بلاشبہہ ایک نہایت پیچیدہ سوال ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں