خلیج تعاون کونسل اور روس کا جدہ میں سوڈانی امن مذاکرات کی حمایت کا اعادہ

سٹریٹجک ڈائیلاگ کے اختتامی بیان میں میری ٹائم سیکیورٹی کو محفوظ رکھنے اور جی سی سی ممالک میں میری ٹائم شپنگ لائنوں اور تیل کی تنصیبات کو درپیش خطرات سے نمٹنے کی اہمیت پر زور دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

خلیج تعاون کونسل کی ریاستوں اور روس کے درمیان پیر کے روز سٹریٹجک ڈائیلاگ ہوا۔ ڈائیلاگ کے اختتام پر حتمی بیان میں مشترکہ بیان میں سوڈان سے متعلق جدہ میں ہونے والے امن مذاکرات کی حمایت کا اعادہ کیا گیا اور سوڈان کے دونوں فریقوڈ کو پرسکون کرنے کی کوششوں پر زور دیا گیا۔

جی سی سی اور روس کے سٹریٹجک ڈائیلاگ کے حتمی بیان میں میری ٹائم سیکیورٹی کے تحفظ اور جی سی سی ممالک میں میری ٹائم شپنگ لائنز اور تیل کی تنصیبات کو درپیش خطرات سے نمٹنے کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ تمام یمنی فریقوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر اقوام متحدہ کی سرپرستی میں براہ راست مذاکرات شروع کر دیں۔ تزویراتی گفت و شنید کے بعد جاری بیان میں لیبیا سے تمام غیر ملکی افواج، غیر ملکی جنگجوؤں اور کرائے کے فوجیوں کے انخلا اور انتخابات کے انعقاد کی ضرورت بھی بیان کی گئی۔

اس سے قبل پیر کو روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروو نے خلیجی ریاستوں اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے اپنے ملک کے اقدامات کا خیرمقدم کیا۔

لاوروو نے خلیج تعاون کونسل کے ممالک کے ساتھ مزید تجارتی تعاون میں ماسکو کی دلچسپی کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم خلیجی ریاستوں کی جانب سے یمن میں بحران کے خاتمے اور ایک جامع قومی مذاکرات شروع کرنے کی کوششوں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ شام کے اتحاد اور اس کی سرزمین پر خودمختاری اور شام کی عرب لیگ میں واپسی کے حوالے سے ہمارا موقف بھی خلیجی ریاستوں کے ساتھ ہے۔ لاوروو نے کہا ہمیں سوڈان میں تشدد کے تسلسل اور ہلاکتوں پر تشویش ہے۔

روسی وزیر خارجہ نے مزید کہا روس مسئلہ فلسطین کے حل میں تیزی لانے کی اہمیت پر خلیجی ریاستوں کے ساتھ متفق ہے۔ ہم اپنے اتحاد کے ذریعے کسی بھی ملک کو دھمکانا نہیں چاہتے۔

اس دوران خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے روس کے ساتھ بات چیت اور اس کے ساتھ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے جی سی سی ممالک کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس کے ساتھ مشترکہ ایکشن پلان دو طرفہ تعلقات کی بنیاد ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم اپنے تمام بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ ایک ہی فاصلے پر کھڑے ہیں۔

اس سے قبل پیر کو خلیجی ریاستوں اور روس کے درمیان سٹریٹجک ڈائیلاگ کا چھٹا وزارتی اجلاس ماسکو میں وزرائے خارجہ کی سطح پر شروع ہوا۔ روسی وزیر خارجہ نے اعلان کیا کہ روسی صدر پوتین خلیجی ریاستوں کے ساتھ رابطے اور تعاون کے خواہشمند ہیں۔ روس اور خلیجی ریاستوں کے درمیان تجارت کی مثبت ترقی کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔

عمان کے وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے کہا یمن میں صدارتی قیادت کی کونسل کے لیے حمایت کی تجدید کرتے ہیں۔ یمن کے بحران کے جامع سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے کام کیا جائے۔

سوڈان کے بحران کے بارے میں انہوں نے کہا کہ سوڈان میں بیرونی مداخلت تنازعہ کو ہوا دے رہی ہے۔

خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے اعلان کیا کہ جی سی سی ممالک روس کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کو بڑھانے کے خواہشمند ہیں۔ جی سی سی ریاستیں سلامتی کے حصول اور تنازعات کو حل کرنے کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتی ہیں۔

جی سی سی ریاستیں یوکرینی بحران کو سیاسی طور پر حل کرنے کے لیے ثالثی کی کوششوں کی بھی حمایت کرتی ہیں۔ اسی طرح خلیج کے ممالک اناج کی برآمد کے معاہدے میں توسیع کے بھی حامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اوپیک پلیس گروپ کے اندر روس کے ساتھ تعاون تیل کی منڈی کے لیے مثبت تھا۔

ماسکو ڈائیلاگ میں عرب خلیجی ریاستوں اور روسی فیڈریشن کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے کی کوشش کی گئی اور اس میں بہت سے بین الاقوامی مسائل اور علاقائی تعاون کے مسائل پر بات چیت کی گئی ہے۔

خیال رہے خلیج تعاون کونسل اور روس کے درمیان سٹریٹجک ڈائیلاگ کا پانچواں مشترکہ وزارتی اجلاس سعودی دارالحکومت ریاض میں جون 2022 میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی موجودگی میں منعقد ہوا تھا۔

جی سی سی ملکوں اور روس کے درمیان تجارتی تبادلے کا حجم سال 2021 کے اعلان کردہ اعدادوشمار کے مطابق 7.6 بلین ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں