موبائل فون سے بچوں کے ساتھ فٹ بالر کی زیادتی کے گھناؤنے جرم کا کیسے پتا چلا؟

’امریکی پولیس نے فٹ بال کوچ کیمیلو ہرٹاڈو کیمپوس کو اس وقت گرفتار کیا جب ہوٹل میں رہ جانے والے اس کے موبائل سے ایسی دلخراش ویڈیوز ملیں جن میں اسے کم عمر لڑکوں کے ساتھ زیادتی کرتےدیکھا جا سکتا ہے‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی پولیس نے اعلان کیا ہے کہ ریاست ٹینیسی میں ایک "مشہور" فٹ بال کوچ کو اس کے موبائل فون پر ویڈیوز ملنے کے بعد گرفتار کر لیا ہے جس میں اسے بے ہوش لڑکوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ملزم لڑکوں کے ساتھ جنسی بدفعلی کرتا اور ان کی ویڈیوز شوٹ کرکے اپنے پاس رکھتا تھا۔

فرینکلن پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کیمیلو ہرٹاڈو کیمپوس کو فرینکلن ٹینیسی میں ایک نابالغ کے ساتھ زیادتی اور جنسی استحصال کے الزام میں اضافی الزامات کے ساتھ حراست میں لیا گیا ہے۔

واپس کرنے کے لیے جب فون کھولا گیا

پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں رپورٹ اس وقت موصول ہوئی جب کیمپوس اپنا فون ایک ریستوراں میں بھول گئے، عملے کو فون کو اس کے اصل مالک کو تلاش کرنے کے لیے کھولنا پڑا تاکہ وہ اسے واپس کر سکیں۔

اس نے مزید کہا کہ "اس کے بجائے جو کچھ انہیں ملا، وہ بچوں کی درجنوں ناقابل تصور ویڈیوز اور تصاویر تھیں۔ اس لیے انہوں نے پولیس کو بلایا اور موبائل اس کے حوالے کیا" ۔

سی این این کے مطابق حکام کو 63 سالہ شخص کے فون پر سینکڑوں پریشان کن تصاویر اور ویڈیوز ملی ہیں۔

کلپس میں دکھایا گیا ہے کہ کیمپوس 9 سے 17 سال کی عمر کے بے ہوش لڑکوں کی عصمت دری کرتے ہیں اور کم از کم 10 متاثرین ہیں جن میں سے 2 کی شناخت ہو چکی ہے۔

وہ بچوں کو اپنے گھر بلایا کرتا تھا

مزید برآں تفتیش کاروں نے بتایا کہ متاثرین کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ بے ہوشی کی حالت میں ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ زیادتی کی گئی۔

حکام نے ایک بیان میں کہا کہ فٹ بال کوچ اکثر اسکول کے کھیل کے میدانوں میں آتا تھا جہاں وہ بچوں سے رابطہ کرتا تھا اور بعد میں انہیں اپنے گھر مدعو کرتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں