روس اور یوکرین

ولنیئس سربراہ اجلاس: نیٹو کا یوکرین کی رُکنیت کا خیرمقدم لیکن باضابطہ دعوت سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے لیڈروں نے منگل کے روز اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ یوکرین کا مستقبل اتحاد کی رکنیت میں مضمر ہے لیکن انھوں نے کیف کو تنظیم میں شمولیت کی دعوت یا کوئی نظام الاوقات دینے سے گریز کیا ہے جبکہ اس مؤقف کو قبل ازیں یوکرینی صدر ولودی میر زیلنسکی نے ’’مضحکہ خیز‘‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

لیتھوینیا کے دارالحکومت ولنیئس میں نیٹو کے سربراہ اجلاس کے اعلامیے میں یوکرین کی رُکنیت کے لیے ایکشن پلان (ایم اے پی) کو پورا کرنے کی ضرورت کو ختم کردیا گیا ہے جس سے کیف کی اتحاد میں شمولیت کی راہ میں حائل رکاوٹ کو مؤثر طریقے سے دور کردیا گیا ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کا مستقبل نیٹو سے وابستہ ہے۔ ہم یوکرین کو اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دینے کی پوزیشن میں ہوں گے جب اتحادی متفق ہوں گے اور شرائط پوری ہوجائیں گی۔

البتہ اعلامیے میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یوکرین کو کن شرائط پر پورا اُترنے کی ضرورت ہے ، لیکن تنظیم کے لیڈروں نے کہا کہ اتحاد کیف کو فوجی باہمی تعاون کے ساتھ ساتھ ا جمہوریت اور سلامتی کے شعبے میں اضافی اصلاحات پر پیش رفت کرنے میں مدد کرے گا۔

ولودی میر زیلنسکی نے اس سے قبل نیٹو رہ نماؤں کو رُکنیت کے لیے کوئی ٹائم فریم پیش نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔انھوں نے نیٹو کے سربراہ اجلاس میں خصوصی مہمان کی حیثیت سے شرکت کی ہے۔انھوں نے اس سے قبل کہا:’’یہ غیر معمولی اور مضحکہ خیز ہوگا اگر دعوت نامے کااور نہ ہی یوکرین کی رکنیت کے لیے کوئی ٹائم فریم مقررکیا جاتا ہے‘‘۔

اجلاس کے آغاز پر زیلنسکی کا یہ تبصرہ نیٹو کے سیکریٹری جنرل جینز اسٹولٹن برگ کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ یہ بلاک کیف کو رکنیت کی راہ پر ایک 'مثبت پیغام' دے گا۔

اجلاس میں نیٹو کے 31 رکن ممالک کے درمیان یوکرین کی شمولیت کی تاریخ یا براہ راست دعوت دینے پر اختلافات کو اجاگر کیا گیا ہے۔یوکرینی صدر فروری 2022 میں روس کے حملے سے پہلے بھی سلامتی کی ضمانت کے ساتھ ساتھ فوجی اتحاد میں اپنے ملک کی فوری شمولیت پر زور دے رہے تھے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’’ ہم یوکرین کی حکومت اور عوام کے ساتھ ان کے اپنی قوم، اپنی سرزمین اور مشترکہ اقدار کے بہادرانہ دفاع پرغیرمتزلزل یک جہتی کا اعادہ کرتے ہیں‘‘۔

ماسکو کے بارے میں سخت زبان میں کہا گیا ہے:’’روسی فیڈریشن اتحادیوں کی سلامتی اور یورو اٹلانٹک کے علاقے میں امن و استحکام کے لیے سب سے بڑا اور براہ راست خطرہ ہے‘‘۔

زیلینسکی کی تنقید کے بارے میں پوچھے جانے پر اسٹولٹن برگ نے پریس کانفرنس میں کہا:’’جب رکنیت کے لیے آگے بڑھنے کے راستے کے سیاسی پیغام اور نیٹو اتحادیوں کی ٹھوس حمایت کی بات آتی ہے ’’نیٹو کی طرف سے کبھی اس سے زیادہ مضبوط پیغام نہیں آیا‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو میں اس سے قبل کسی ملک کی شمولیت کے لیے کوئی ٹائم لائن نہیں تھی بلکہ وہ شرائط پر مبنی ہوتی تھی اور ہمیشہ سے ایسا ہی رہا ہے۔

اگرچہ نیٹو کے ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ یوکرین جنگ کے دوران میں تنظیم میں شامل نہیں ہو سکتا، لیکن انھوں نے اس بات پر اختلاف کیا ہے کہ یہ بعد میں کتنی جلدی اور کن حالات میں رکن بن سکتا ہے۔

نیٹو کے مشرقی یورپ کے ارکان نے کیف کے مؤقف کی حمایت میں کہا ہے کہ یوکرین کو نیٹو کی مشترکہ سلامتی کی چھتری کے تحت لانا روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکنے کا بہترین طریقہ ہے۔

امریکا اور جرمنی جیسے ممالک زیادہ محتاط رہے ہیں اور وہ کسی بھی ایسے اقدام سے گریزاں ہیں جس سے انھیں خدشہ ہے کہ نیٹو اتحاد روس کے ساتھ براہ راست تنازع میں الجھ سکتا ہے۔امریکی صدر جو بائیڈن نے زور دے کر کہا ہے کہ نیٹو کو روسی صدر ولادی میر پوتین کی جانب سے اتحاد کو تقسیم کرنے کی کوششوں کے خلاف متحد رہنے کی ضرورت ہے۔

جو بائیڈن نے کہا:’’میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ صدر پوتین اگر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ نیٹو کو توڑنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے‘‘۔'

یادرہے کہ روس نے یوکرین پر حملے کا ایک جواز یہ پیش کیا تھا کہ نیٹو مشرقی یورپ میں اپنی توسیع کررہا ہے۔اس نے نیٹو کے بدھ کو ختم ہونے والے دو روزہ سربراہ اجلاس کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بڑھتی ہے تو یورپ کو "تباہ کن نتائج" کا سامنا کرنا پڑے گا۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ ممکنہ طور پر یوکرین کا نیٹو میں شامل ہونا یورپ کی سلامتی کے لیے بہت خطرناک ہے۔اس لیے جو لوگ یہ فیصلہ کریں گے، انھیں اس بات کا علم ہونا چاہیے۔انھوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ یورپی رہنما یہ نہیں سمجھتے کہ نیٹو کے فوجی ڈھانچے کو روس کی سرحدوں کی طرف منتقل کرنا ایک غلطی تھی۔

طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل

زیلنسکی نے اس اجلاس میں البتہ ایک اور کامیابی حاصل کی ہے اور فرانسیسی صدر عمانوایل ماکرون نے یوکرین کو طویل فاصلے تک مار کرنے والے کروز میزائل مہیا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

یہ میزائل ڈھائی سو کلومیٹر (155 میل) تک مارکرسکتے ہیں اور اس رینج کے ساتھ یوکرین کی سابقہ صلاحیتوں کو قریباً تین گنا بڑھا دیں گے اوریوکرینی فوج روسی فوجیوں اور رسد کو فرنٹ لائن کے پیچھے گہرائی میں نشانہ بنانے کی صلاحیت کی حامل ہوجائے گی۔

جرمنی نے بھی یوکرین کے لیے 70 کروڑ یورو کی نئی امداد کا اعلان کیا ہے جس میں دو پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس میزائل لانچر اور مزید ٹینک اور لڑاکا گاڑیاں شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں