چین کی خواتین ماہرین معاشیات کی ییلن کے ساتھ ظہرانہ پر ملاقات، ’غدار‘ قرار دے دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چینی خواتین ماہرین معاشیات کے ایک گروپ کو ملک کے سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کا نشانہ بنایا اور ان پر "حقوق نسواں کی بنیاد پرست حامی" ہونے کا الزام لگایا۔ مذکورہ گروپ نے ہفتے کے آخر میں امریکی وزیر خزانہ جینٹ ییلن سے ملاقات کی تھی۔

ہفتے کو بیجنگ میں معاشیات کے شعبے میں نئی اختراعات کرنے والی ییلن نے چھ چینی خواتین ماہرین معاشیات کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا۔ قبل ازیں، چین کے زیادہ تر مرد حکومتی رہنماؤں کے ساتھ ایسی ملاقاتیں ہوا کرتی تھیں۔ ظہرانے کی یہ ملاقات ملک میں صنفی تنوع کو سامنے لانے کی ایک کوشش قرار دی جا سکتی ہے۔

ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر تقریباً 600 تبصرے کیے گئے۔ ایک آن لائن صارف نے اپنے تبصرے میں ییلن کے ساتھ کھانے میں شریک چینی خاتون ماہر معاشیات، ہاؤ جِنگ فانگ کو "نہ صرف غدار بلکہ "حقوقِ نسواں کی ایک بنیاد پرست حامی" بھی کہا۔

ہاؤ نے آن لائن سوالات کے جواب میں لکھا کہ وہ کھانے میں اس لیے شریک ہوئیں کہ "یلین سب سے زیادہ دوستانہ رویے کی حامل امریکی اہلکار ہیں، وہ چین اور امریکہ کے دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ہمیشہ کوشش کرتی ہیں۔"

کچھ صارفین نے ییلن کو ایک "یقینی خطرناک شخص" قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ انہیں چین میں عوامی مہمان کے طور پر کام کرنے کی اجازت کیوں دی گئی، جب کہ دیگر صارفین نے چینی خواتین ماہرین معاشیات پر تنقید کرتے ہوئے انہیں امریکہ نواز قرار دیا۔

شان3847 نامی ایک صارف نے لکھا، "اس گروپ کو تو دیکھو، جاسوسی کا انسداد کرنے والا قانون (یہاں) کام دے سکتا ہے،" جبکہ ایک اور صارف نے یوں تبصرہ کیا، "میز پر موجود ہر ایک کو پکڑا جائے، کوئی بھی بے قصور نہیں ہے۔ امریکہ کی بڑی مہربانی کہ باغیوں کو بے نقاب کرنے میں ہمیشہ ہماری مدد کرتا ہے۔"

کھانے پر کی گئی اس ملاقات سے قبل چینی محکمۂ خزانہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا تھا کہ ییلن، جو امریکی فیڈرل ریزرو کی اولین خاتون سربراہ ہیں، کو ایسے کئی لوگوں سے ملاقات کا موقع ملے گا جو عمومی پالیسی سٹرکچر سے مختلف سوچ کے حامل ہیں۔

حکمران کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری کی حیثیت سے چینی صدر شی جن پنگ کی حکومت کو ایک عشرہ ہو چکا ہے۔ اس دوران سیاست میں خواتین کی تعداد اور اعلیٰ حکومتی عہدوں میں کمی، اور افرادی قوت میں صنفی امتیاز میں اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ حکومت نے خواتین کے روایتی کرداروں پر زور دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں