کنگ چارلس سے ملاقات، بائیڈن نے دو مرتبہ پروٹوکول کی خلاف ورزی کردی

چارلس سوم کی پیٹھ پر تھپکی دی، سلام کرتے ہوئے ہاتھ سے پکڑا، قواعد کے مطابق کسی کو بھی شاہی افراد کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر بائیڈن برطانیہ پہنچے تو کنگ چارلس نے ان کا استقبال کیا۔ اس دوران بائیڈن کو اس وقت شرمساری کا سامنا کرنا پڑا جب انہوں نے شاہی پروٹوکول کی پابندی کرنے میں کوتاہی برتی۔ بائیڈن برطانوی بادشاہ کو پیچھے چھوڑ کر اکیلے گھومتے نظر آئے۔ پھر بائیڈن نے بادشاہ کے شاہی محافظ سے بات چیت کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران شاہ چارلس سوم کو انہیں اپنی طرف متوجہ کرنا پڑا۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل نے بتایا کہ کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے پیر کو ونڈسر کیسل میں برطانوی شاہ چارلس سوم کے استقبال کے دوران دو بار آداب اور پروٹوکول کی خلاف ورزی بھی کی۔

شاہ چارلس سوم نے نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے لتھوانیا کا سفر کرنے سے پہلے برطانیہ کے اپنے مختصر دورے کے دوران پیر کو ونڈسر کیسل میں امریکی صدر جو بائیڈن کا استقبال کیا۔ بائیڈن نے ونڈسر کیسل میں بادشاہ کے سامنے چلتے ہوئے دو قدم آگے بڑھ کر پروٹوکول توڑ دیا۔

اخبار کے مطابق بائیڈن نے چارلس سوم کی پیٹھ پر تھپکی دی اور استقبال کے دوران ان کا ہاتھ پکڑلیا حالانکہ قواعد کے مطابق کسی کو بھی اس طرح شاہی خاندان کے افراد کو ہاتھ نہیں لگانا چاہیے۔

اپنے حالیہ دورے کے تناظر میں بائیڈن ایک وزیٹر تھے لیکن پھر بھی انہوں نے محسوس کیا کہ ان کے پاس رائل گارڈ کو اپنی بات چیت میں شامل کرنے کا فائدہ ہے۔ جب یہ کام نہیں ہوا تو ٹوئٹر پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ شاہ چارلس سوم استقبالیہ کے دوران صدر کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ سننا ممکن نہیں ہے کہ شاہ چارلس اور بائیڈن کے درمیان کیا بات چیت ہوئی لیکن شاہ کے ردعمل سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ بائیڈن کی حرکات کی وجہ سے تھوڑا تھکے ہوئے نظر آئے۔ اپنے تبصرہ میں آداب کے ماہر ولیم ہینسن کا کہنا تھا کہ ممالک کے رہنماؤں کو ایسی تقریبات میں ایک دوسرے کے قریب ہونا چاہیے۔

انھوں نے امریکی صدر کی غلطی کا جواز یہ کہہ کر دیا کہ شاید وہ بہت زیادہ پر سکون تھے یا انھوں نے انتباہات پر کان نہیں دھرے۔

بائیڈن نے پیر کو برطانیہ میں برطانوی وزیر اعظم رشی سونک سے بھی ملاقات کی اور پھر وہ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے لتھوانیا روانہ ہوگئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں