ایران اور یو اے ای کے درمیان متنازع جزائر سے متعلق بیان پر تہران میں روسی سفیر طلب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے روس اور خلیج تعاون کونسل کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے متنازع تین جزائر کے بارے میں مشترکہ بیان پر تہران میں متعیّن روسی سفیر کو طلب کیا ہے اور ان سے اس بیان کی وضاحت طلب کی ہے۔

گذشتہ سوموار کو روس اور خلیج تعاون کونسل نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا جس میں وزراء خارجہ نے دوطرفہ مذاکرات یا بین الاقوامی عدالت انصاف کے ذریعے تینوں متنازع جزائر کے مسئلے کے پرامن حل تک پہنچنے کے لیے متحدہ عرب امارات کے اقدام کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے اس بیان کی مذمت کی ہے اور اسے ایران اور اس کے ہمسایہ ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تینوں جزیرے ہمیشہ کے لیے ایران کے ہیں۔

اس بیان کے بعد ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کے قانونی مشیر محمد دہقان نے کہا ہے کہ ایران متحدہ عرب امارات کے ساتھ خلیج کے تین متنازع جزائر پر مذاکرات نہیں کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ ماضی کی تمام دستاویزات کی جانچ پرکھ سے پتا چلتا ہے کہ یہ جزیرے ایران کے ملکیتی ہیں اور ان پر اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔

جزیرہ ابو موسیٰ اورآبنائے ہرمز کے داخلی راستے کے قریب خلیج میں واقع دو اور چھوٹے جزائر طنب الکبریٰ اور طنب صغریٰ ایران کے کنٹرول میں ہیں لیکن متحدہ عرب امارات بھی ان دونوں جزائرپر دعوے دار ہے۔دنیا کی تیل کی پیداوار کا پانچواں حصہ آبنائے ہرمز ہی سے ہوکرگذرتا ہے۔

ان تینوں جزیروں پر ایران نے 1971ء میں قبضہ کیا تھا۔ایران کی قبضے کی کارروائی سے کچھ عرصہ قبل ہی سات خلیجی امارتوں نے برطانیہ سے مکمل آزادی حاصل کی تھی اور متحدہ عرب امارات کے نام سے وفاق تشکیل دیا تھا، جو اب واشنگٹن کااتحادی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں