ترک صدر سویڈن کی نیٹو رکنیت کی توثیق کا بل خزاں میں پارلیمان میں پیش کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ وہ سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی توثیق کا بل خزاں میں پارلیمان میں پیش کریں گے۔

وہ بدھ کے روز لیتھوینیا کے دارالحکومت ویلنیئس میں نیٹو سربراہ اجلاس کے بعد ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ سویڈن اس توثیق سے قبل ترکیہ کو دہشت گردی کے خلاف کیے جانے والے اپنے مجوزہ اقدامات کے بارے میں ایک روڈ میپ فراہم کرے گا۔

واضح رہے کہ صدر ایردوآن نے اسی ہفتے یہ مطالبہ کیا تھا کہ نیٹو میں سویڈن کی شمولیت کی منظوری کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ترکیہ یورپی یونین کے ساتھ تعطل کا شکار رکنیت کے مذاکرات کی تجدید کرنے میں کامیاب ہو جائے لیکن وہ سوموار کو اچانک اپنے اس مطالبے سے دست بردار ہوگئے تھے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے صدر طیب ایردوآن کا سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی مخالفت ترک کرنے پر شکریہ ادا کیا ہے،ان کی ہمت اور دلیرانہ قیادت کی تعریف کی ہے اوران کے اس فیصلے کو ایک بڑی سفارتی کامیابی قراردیا ہے۔

انھوں نے ولنیئس میں نیٹو کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ترک صدر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں آپ کی سفارت کاری اور اس کو آگے بڑھانے کے لیے آپ کی ہمت وحوصلے پرآپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور میں آپ کی قیادت پرآپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں‘‘۔

واضح رہے کہ حالیہ ہفتوں میں مغربی دارالحکومتوں میں صدر ایردوآن کی جانب سے سویڈن کی رکنیت کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر مایوسی میں اضافہ ہوا تھا۔سویڈن کو اتحاد میں شمولیت کی کوشش کی تکمیل کے لیے نیٹو کے تمام ارکان کی متفقہ منظوری درکار ہے۔اس نے گذشتہ سال یوکرین پر روسی فوج کے حملے کے جواب میں فن لینڈ کے ساتھ مل کر نیٹو کی رکنیت کے لیے کوشش شروع کی تھی لیکن ترکیہ اور ہنگری اس کی مخالفت کررہے تھے۔

بائیڈن نے گذشتہ اتوارکو ایئرفورس ون پر سفر کے دوران میں صدر ایردوآن سے قریباً ایک گھنٹے تک بات چیت کی تھی تاکہ اس تعطل کو ختم کیا جا سکے اور ولنیئس سربراہ اجلاس میں کسی مکنہ شرمناک ناکامی سے بچا جا سکے لیکن ایردوآن نے پیر کی رات اچانک اپنے مؤقف پرنظرثانی کی تھی اور سویڈن کی نیٹو رکنیت کی مخالفت سے دست بردار ہوگئے تھے۔

وہ گذشتہ کئی مہینوں سے سویڈن میں مقیم ترکیہ سے تعلق رکھنے والی کالعدم کرد تحریکوں کے ارکان کے خلاف کریک ڈاؤن پر زور دے رہے تھے جس کے بارے میں سویڈش حکومت کا کہنا ہے کہ اب اس نے ترکیہ کی تمام شرائط کو پورا کردیا ہے لیکن اب یہ بھی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ ترکیہ نے سویڈن کو گرین سگنل دینے کے لیے اور کیا مراعات حاصل کی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں