ٹرمپ کی یوکرین کو کلسٹر بموں کی فراہمی کی مخالفت، جوبائیڈن پر تنقید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کو کلسٹر ہتھیاروں کی فراہمی کی مخالفت کا اعلان کیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکی صدر جو بائیڈن کو یوکرین کو کلسٹر گولہ بارود فراہم کر کے ہمیں تیسری جنگ عظیم کے طرف نہیں دھکیلنا چاہئے"۔ سابق صدر کے میڈیا آفس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے یوکرین کو کلسٹرہتھیاروں کی فراہمی کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

خیال رہے کہ ٹرمپ آئندہ سال امریکا میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کی مہم چلا رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ " صدر کو جنگ کو روکنے اور ایک نااہل انتظامیہ کی وجہ سے ہونے والی خوفناک موت اور تباہی کو روکنے کی کوشش کرنی چاہیے۔"

ٹرمپ نے کہا کہ اگر کلسٹر گولہ بارود کی ترسیل امریکا میں روایتی جنگی سازوسامان کی کمی کی وجہ سے تھی تو یہ اسے فوری طور پر بند ہونا چاہیے۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ "اس کا یقینی طور پر مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنے آخری ذخیرے کو ایسی صورتحال میں یوکرین نہیں بھیجنا چاہئے جہاں بدعنوان جو بائیڈن کے مطابق ہمارے اپنے اسلحہ خانے کو خطرناک حد تک کم کردیا گیا ہے۔"

نیٹو ممالک کی مخالفت

امریکی قومی سلامتی کے مشیرجیک سلیوان نے کل منگل کو ایک بیان میں کہا تھا کہ نیٹو کے بہت سے رکن ممالک یوکرین کو کلسٹر گولہ بارود فراہم کرنے کے امریکی فیصلے سے متفق نہیں ہیں، لیکن یہ اتحاد کی صفوں میں تقسیم کا باعث نہیں بنتا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کیئف کو کلسٹر گولہ بارود فراہم کرنا ایک عارضی اقدام ہو گا جب تک کہ روایتی گولہ بارود کی پیداوار میں اضافہ نہ ہو جائے اور اس کے ذخیرے کو دوبارہ بھر دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "کچھ مہینے پہلے ہم نے گولہ بارود کی پیداوار میں سنجیدگی سے اضافہ کرنا شروع کیا اور ایک بار جب اس کی مقدار مطلوبہ سطح تک پہنچ گئی۔ یوکرین کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کلسٹر گولہ بارود کی فراہمی کی ضرورت نہیں ہوگی۔"

جمعہ کے روز امریکا نے روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد پہلی بار یوکرین کو کلسٹر بم فراہم کرنے کے اپنے فیصلے کا اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں