"اسلام فوبیا کی مظہر قرآن سوزی کے ذمہ داروں کا کڑا محاسبہ کیا جائے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران اور پاکستان سمیت مسلم ریاستوں نے کہا کہ قرآن کی بے حرمتی مذہبی منافرت کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کرنے والوں کے احتساب کا مطالبہ کیا، جب کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے نے سویڈن میں قرآن سوزی کے بعد ایک متنازعہ تحریک پر بحث کی۔

گذشتہ ماہ کے افسوس ناک واقعے کے جواب میں پاکستان کی پیش کردہ قرارداد، اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سربراہ سے اس بابت رپورٹ طلب کرتی ہے۔

انہوں نے ریاستوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے قوانین پر نظر ثانی کرتے ہوئے "اس خلا کو پُر کریں جو مذہبی منافرت پیدا کرنے والی کارروائیوں کی وکالت کرتے ہیں اور ایسی کارروائیوں کے انسداد میں رکاوٹ بنتے ہیں۔"

یہ بحث اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں اسلامی تعاون تنظیم اور مغربی اراکین کے درمیان اختلاف کو نمایاں کرتی ہے۔

مغربی ریاستوں کو اس بات کی فکر ہے کہ مسلم ممالک کی اس قرارداد سے آزادئ اظہار پر، اور حقوق کے تحفظ کے لیے طویل عرصے سے جاری طریقوں کو درپیش چیلنجز پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

گذشتہ ماہ سٹاک ہوم کی ایک مسجد کے باہر ایک عراقی تارک وطن نے قرآن سوزی کا مذموم اقدام کیا تھا۔ یہ شخص عراق سے ترک وطن کر کے سویڈن میں رہائش پذیر ہے۔ اس کے بعد تمام مسلم دنیا اور پاکستان کے کئی شہروں میں غم وغصّے کا اظہار اور احتجاج کیا گیا۔

پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ویڈیو لنک کے ذریعے جنیوا کونسل کو بتایا کہ "ہمیں واضح طور پر یہ دیکھنا چاہیے کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ مذہبی منافرت کی ترغیب، امتیازی سلوک اور تشدد کو ہوا دینے کی کوشش۔ ایسی کارروائیاں "حکومتی منظوری اور سزا سے آزادی کے احساس کے ساتھ" ہوئی ہیں۔"

ایران، سعودی عرب اور انڈونیشیا کے وزراء نے بلاول بھٹو زرداری کے تبصرے کی تائید کی۔ ان میں اسے مؤخر الذکر نے اسے "اسلامو فوبیا" کا فعل قرار دیا۔ وزیر خارجہ ریٹنو مارسودی نے کہا کہ "آزادی اظہار کا غلط استعمال بند کریں۔ خاموشی کا مطلب ہے رضامندی یا تائید۔"

جرمنی کی سفیر، کیتھرینا سٹاش نے قرآن سوزی کو "دہشت ناک اشتعال انگیزی" قرار دیا اور اس کی مذمت کی۔ لیکن انہوں نے مزید کہا کہ "بعض اوقات آزادئ اظہار کا مطلب یہ بھی ہوتا ہے کہ ایسے خیالات کو برداشت کیا جائے جو تقریباً ناقابل برداشت لگتے ہیں۔"

فرانس کے ایلچی نے کہا کہ انسانی حقوق، انسانوں کے تحفظ سے متعلق ہیں نہ کہ مذاہب اور ان کی علامتوں کے تحفظ کے۔

سفارت کاروں نے کہا کہ منگل کو ہونے والے مذاکرات، کشیدگی کی وجہ سے بےنتیجہ رہے اور ووٹ کی امید ہے۔

اس نوعیت کا ووٹ تقریباً یقینی طور پر پاس ہو جائے گا کیونکہ 47 رکنی باڈی کے 19 ارکان او آئی سی ممالک پر مشتمل ہیں اور انہیں چین اور دیگر ممالک کی حمایت بھی حاصل ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے کونسل کو بتایا کہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب یا اقلیتوں کے خلاف اشتعال انگیز کارروائیاں "جارحانہ، غیر ذمہ دارانہ، اور غلط" ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں