جاپانی وزیر اعظم فومیو کِشیدا اتوار کو سعودی عرب کا دورہ کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جاپان کے وزیر اعظم فومیو کِشیدا مشرق اوسط کے تین روزہ دورے کے سلسلے میں اتوار کو سعودی عرب پہنچیں گے۔ان کے اس دورے کا مقصد خطے کے متعدد ممالک اور جاپان کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

جاپان کی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ وہ ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید آل نہیان اور قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ملاقاتیں کریں گے اور ان سے باہمی دلچسپی کے علاقائی اور بین الاقوامی امور، یوکرین اور دوطرفہ تعلقات سمیت مختلف موضوعات پر تبادلہ خیال کریں گے۔

جاپان کا مقصد توانائی، جاپان کے کاروباری اداروں کے لیے کاروباری مواقع اور جی 7 ہیروشیما سربراہ اجلاس میں بیان کردہ ایک کھلے بین الاقوامی نظام کو فروغ دینے جیسے کلیدی شعبوں میں ان ملکوں کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا ہے۔

جاپان گیس ایسوسی ایشن (جے جی اے) کے چیئرمین تاکاہیرو ہونجو نے کہا ہے کہ انھیں امید ہے کہ جاپانی وزیر اعظم کے مشرق اوسط کے مجوزہ دورے سے جاپان کو قدرتی گیس (ایل این جی) اور دیگر ایندھن کی مستحکم ترسیل کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

یہ جنوری 2020 کے بعد کسی جاپانی رہ نما کا مشرق اوسط کا پہلا سرکاری دورہ ہوگا۔ کِشیدا اتوار کو جدہ پہنچیں گے اور پیر کو سعودی عرب سے ابوظبی کے دورے پر روانہ ہوں گے۔

سعودی عرب ، جاپان تعلقات

20 ستمبر 1955ء کو سفارتی تعلقات کے قیام کے بعد سے سعودی عرب اور جاپان نے مضبوط دو طرفہ تعلقات قائم کیے ہیں۔ سعودی عرب کے سابق وزیر دفاع اورہوا بازی شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز کے 1960 میں جاپان کے دورے سے دونوں ممالک کے رہنماؤں کے باضابطہ سرکاری دوروں کا آغاز ہوا تھا۔

دونوں ممالک نے اقتصادی اور تکنیکی تعاون، فضائی خدمات، ٹیکسوں اور سرمایہ کاری سے لے کر مختلف شعبوں میں متعدد معاہدوں پر دست خط کیے ہیں۔

سعودی عرب کی سرکاری پریس ایجنسی کے مطابق 2022 میں سعودی عرب اور جاپان نے سرکلر کاربن اکانومی، کاربن ری سائیکلنگ، صاف ہائیڈروجن اور ایندھن امونیا کے شعبوں میں تعاون کی ایک یادداشت (ایم او سی) پردست خط کیے تھے۔

جاپان کے وزیرِصنعت یاسوتوشی نشیمورا نے دست خط کے بعد کہا تھا کہ سعودی عرب ان کے ملک کو خام تیل مہیا کرنے کا "سب سے قابلِ اعتماد ذریعہ" ہے اور "اس پہلو میں ایک قابل اعتماد شراکت دار" ہے۔

جاپان اپنی توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مشرق اوسط پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور اس کی تیل اور گیس کی درآمدات کا انحصاراس خطے پر ہے۔

گذشتہ سال دونوں ملکوں نے جاپان کی آرگنائزیشن فار میٹلز اینڈ انرجی سکیورٹی (جے او جی ایم ای سی) اور سعودی آرامکو کے درمیان خام تیل کے معاہدے کی تجدید کی تھی، جس کے تحت آرامکو کو اوکیناوا جزیرے پر مزید تین سال تک خام تیل مفت ذخیرہ کرنے کی اجازت ہو گی۔اس معاہدے پر 2010 سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے اور ہر تین سال کے بعد اس کی تجدید کی جاتی ہے۔

جاپانی وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب اور ٹوکیو کے درمیان دیگر اہم معاہدوں میں اقتصادی اور تکنیکی تعاون سے متعلق 1975 کا معاہدہ، فضائی خدمات کے لیے 2009 کا معاہدہ، دُہرے ٹیکس سے بچنے اور ٹیکس چوری کی روک تھام کے لیے 2011 کا کنونشن اور 2017 کا سرمایہ کاری معاہدہ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں