پاکستانی بھارتی جوڑا ساتھ نبھانے کے لیے کچھ بھی کر گذرنے کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

روایتی حریف ممالک، بھارت اور پاکستان کا ایک محبت کرنے والا جوڑا، جو ملنے کے لیے سرحد عبور کرنے سے پہلے ایک گیمنگ چیٹ روم میں ملا، کہتا ہے کہ ان کی محبت نے قومی دشمنیوں اور مذہبی ردعمل کے خوف کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

2020ء کی کرونا وبا کے دوران آن لائن گیم، پب جی کھیلتے ہوئے ایک غیر شادی شدہ، 22 سالہ بھارتی ہندو، سچن مینا، جو ایک دکان پر کام کرتے ہیں، کا رابطہ ایک 27 سالہ مسلم خاتون، سیما حیدر سے ہوا جو شادی شدہ اور چار بچوں کی ماں ہیں۔

"ہم دوست بن گئے اور یہ دوستی محبت میں بدل گئی اور ہماری باتیں طویل تر ہوتی گئیں- ہر صبح اور رات کو - پھر ہم نے ملنے کا حتمی فیصلہ کر لیا۔" سیما نے یہ بات سچن کے دو کمروں والے آبائی گھر کے تنگ سے صحن میں اے ایف پی کو بتائی جہاں اب وہ رہتی ہیں۔

سیما نے پاکستان اور اپنے شوہر کو چھوڑ دیا اور اپنے چار بچوں کے ہمراہ غیر قانونی طور پر نیپال کے راستے مئی میں بھارت پہنچ گئیں۔ اس پر جوڑے کو گرفتار کر لیا گیا، پھر گذشتہ ہفتے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ سیما نے کہا کہ تب سے انہوں نے سچن سے شادی کر لی ہے اور ان کا نام اپنا لیا ہے۔

"میں نے ہندو مذہب قبول کرلیا ہے۔ میں واپس جانے یا سچن کو چھوڑنے کی بجائے مر جانا پسند کروں گی۔" انہوں نے ربوپورہ کے گاؤں میں سچن کے گھر میں ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے کہا۔ یہ گاؤں، نئی دہلی سے تقریباً 55 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اگرچہ دو محبت کے متوالے ایک دوسرے سے مل گئے ہیں لیکن ان کی اقوام کی تاریخ اور ماضی تلخ ہے۔ 1947ء میں آزادی حاصل کرنے کے بعد سے، جوہری صلاحیت کے حامل، پاکستان اور بھارت تین جنگیں لڑ چکے ہیں۔

دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے سفیروں کو 2019 میں ملک بدر کر دیا تھا اور ان کے درمیان سفارتی، ثقافتی، کاروباری، اور کھیلوں کے شعبے میں روابط بہت محدود ہیں۔

بھارتی پولیس کا اصرار ہے کہ سیما کا بھارت میں طویل قیام ممکن نہیں۔

"میں بھارتی حکومت سے شہریت دینے کی درخواست کرتی ہوں۔" سرخ دوپٹے میں بالوں کو لپیٹے ہوئے سیما نے التجا کی۔ ان کے چاروں بچے پاس کھیل رہے تھے۔

'نصیب میں لکھا تھا'

بعض اسلامی احکامات کے مطابق الحاد یعنی ترک اسلام کی سزا موت ہے۔ سیما نے کہا کہ انہیں پہلے ہی آن لائن دھمکیاں مل رہی ہیں اور زور دیا کہ وہ اور سچن "ایک ساتھ جئیں اور مریں گے۔"

اس ہفتے بھارتی ٹی وی پر گرما گرم بحث کے دوران جب سیما نے سچن کے لیے "لازوال محبت" کا دعویٰ کیا اور کہا وہ "مر کر ہی" پاکستان واپس جائیں گی تو ان کے گرد بیٹھے ہجوم نے خوشی سے نعرہ لگایا۔

انہوں نے بتایا کہ پہلے پہل وہ سچن کی پب جی گیم میں مہارت سے ان کی طرف متوجہ ہوئیں۔

تین سال بعد جوڑے نے مارچ میں نیپال میں ذاتی طور پر ملاقات کی۔

انہوں نے پہلی ملاقات کے بعد ہی اپنے "زیادتی کرنے والے" شوہر کو چھوڑنے کا ارادہ کر لیا تھا، لیکن ان کا شوہر الزامات کو مسترد کرتا ہے۔

جوڑے نے بتایا کہ نیپال کے راستے بھارت میں کیسے داخل ہونا ہے، اس کے لیے انہوں نے یو ٹیوب وڈیوز کی مدد سے کئی مہینے حد درجہ احتیاط اور باریک بینی سے منصوبہ بندی کی۔ مئی میں سیما اس میں کامیاب ہو گئیں۔

"پاکستان سے بھارت کا سفر کرنا بہت مشکل تھا۔ مجھے یقین تھا کہ خدا کی مدد سے ہمارا ملنا قسمت میں تھا۔" سیما نے کہا۔

سچن کے خاندان کو سیما کے بارے میں پتا تب چلا جب سچن نے سیما کے ساتھ رہنے کے لیے قریبی اپارٹمنٹ کرائے پر لیا

"تھوڑی بہت مزاحمت تھی لیکن میرے والد اور سب نے ہمیں قبول کر لیا۔ وہ ہمارے لیے خوش ہیں۔ میں ان کے لیے سب کچھ کروں گا۔" سچن نے کہا۔

بھارتی پولیس کو پتا چلا جب انہوں نے ایک مقامی عدالت میں شادی کرنے کی کوشش کی۔

'اب بھی میرا خاندان ہے'

سیما کے (چھوڑے ہوئے) شوہر، غلام حیدر نے اپنی مزدوری کی ملازمت چھوڑ دی اور زیادہ پیسے کمانے کے لیے سعودی عرب میں

رکشہ چلانا شروع کر دیا۔ حیدر، جو کہتا ہے کہ اس نے پب جی کے بارے میں نہیں سنا، اپنا خاندان واپس حاصل کرنا چاہتا ہے۔

"میں بھارتی اور پاکستانی حکام سے عاجزانہ درخواست کرتا ہوں کہ میرے بیوی بچے مجھے واپس دلائے جائیں۔ سعودیہ سے ٹیلی فون پر اے ایف پی سے گفتگو میں انہوں نے کہا۔ وہ کہتے ہیں کہ بلوچستان کے مختلف قبائل سے تعلق رکھنے والے اس جوڑے کی بھی محبت کی ایک سرکش داستان ہے۔

ان کے خاندانوں کی طرف سے انکار کے بعد، وہ شادی کرنے کی خاطر بھاگ گئے جو پاکستان میں ممنوع ہے اور اس پر نام نہاد غیرت کے نام پر قتل ہو سکتا ہے۔ بعد میں مسئلے کے حل کے لیے جرگہ (بزرگوں کی کونسل) بیٹھا اور مجھ پر دس لاکھ روپے جرمانہ (تقریباً 3640 ڈالر) عائد کیا گیا۔ میں گھر سے اور خاندان سے دور ہوں اور یہ بات میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے کیونکہ ہم نے محبت کی شادی کی تھی۔"

'وہ بالغ ہے'

بھارت میں جوڑے کو خوش آمدید کہا گیا ہے۔ جب سے ان کی گرفتاری کی سرخیاں شائع ہوئی ہیں، بڑی تعداد میں قریبی دیہات کے لوگ ملنے آ رہے ہیں۔

37 سالہ راکیش چند نے اپنے دوست سچن کو مبارک باد دینے کے لیے ایک گھنٹے کا سفر کیا۔ وہ مبارک باد دینے کے لیے آنے والے اور اپنی باری کا انتظار کرنے والے درجنوں لوگوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں

نے کہا۔ "ہم نے سیلفیز بنائیں۔ سچن کافی خوش ہے۔ گھر والوں تک نے انہیں قبول کر لیا ہے تو حکومت کو بھی یہ بات یقینی بنانی چاہیے کہ سیما کو بھارت چھوڑنے پر مجبور نہ کیا جائے۔"

لیکن پاکستان کے مشرقی کراچی کے دھنی بخش گاؤں میں سیما کے گھر کے قریبی علاقے میں اس خبر پر خوشی کا اظہار نہیں کیا گیا۔

اگرچہ لوگ سیما کی کہانی سے واقف ہیں لیکن چند ایک ہی اس واقعے پر کھل کر بات کرنے پر راضی ہیں- حالانکہ وہ گلی کے موڑ پر گروہوں میں اس پر گپ شپ ضرور کرتے ہیں۔

غلام حیدر کے کزن، ظفر اللّٰہ بگٹی نے پب جی کو مورد الزام قرار دیا کہ اس نے سیما "نفسیاتی" بنا دیا اور انہوں نے کہا۔ "اب اسے بھول جائیں کیونکہ وہ جا چکی ہے اور وہ بالغ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ سیما کو اپنے فعل پر خود ندامت نہیں، وہ سچن کو اپنی زندگی کی محبت قرار دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ اپنے خاندان کے لیے خود کو وقف کر دیں گی۔ "میرے بچوں کو یہاں ہر طرح سے پیار، خیال اور توجہ ملے گی۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں