دو ناکامیوں کے بعد بھارتی خلائی مشن چاند پر جانے کی تیسری کوشش کے لیے روانہ

اسرو مشن کی کامیابی کے بعد بھارت چاند پر سافٹ لینڈنگ کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت کا خلائی مشن چندریان 3 چاند کے سفر پر روانہ ہو گیا جس کے بارے میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ 40 دن بعد 23 اگست کو چاند پر لینڈ کر جائے گا۔

اسے جنوبی ریاست آندھرا پردیش میں خلائی اڈے سے مقامی وقت کے مطابق دوپہر کو تقریبا ًڈھائی بجے لانچ کیا گیا۔

خلائی گاڑي کامیابی کے ساتھ زمین سے روانہ ہوئی اور اب چاند کی طرف اپنے سفر میں سیارے کے گرد مدار میں ہے۔ نئی دہلی کی اس کوشش کا مقصد چاند پر روؤر اتارنا ہے۔ حکام کے مطابق اس راکٹ کو 23 اگست تک چاند پر پہنچنا ہے۔

وکرم نامی مون لینڈر کو مارک 3 ہیوی لفٹ لانچ وہیکل پر نصب کیا گيا اور اسے باہوبلی راکٹ کا نام دیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق خلائی مشن آندھرا پردیش کے سری ہری کوٹا سے روانہ ہوا۔ اگر یہ مشن کامیاب ہو جاتا ہے تو روس، امریکا اور چین کے بعد بھارت چاند پر کنٹرول لینڈنگ حاصل کرنے والا چوتھا ملک بن جائے گا۔

بھارتی سائنس دانوں نے دعوی کیا ہے کہ مون کرافٹ وکرم چاند کے جنوبی قطب میں اترے گا، جہاں پانی کے مالیکیولز پائے گئے ہیں۔ 2008 میں ہندوستان کے پہلے چاند مشن کے دوران کی گئی اس دریافت نے دنیا کو چونکا دیا تھا۔

یاد رہے کہ بھارت کا دوسرا قمری مشن چندریان-2 چار سال قبل 2013 میں ناکام ہو گیا تھا جس کے بعد نئے خلائی مشن میں کئی نئی تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ چندریان-2 سے قبل چدریان-1 کو بھی دعووں کے برعکس کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی تھی۔

رواں برس کے اوائل میں ایک جاپانی اسٹارٹ اپ نے بھی چاند پر لینڈر پہنچانے کی کوشش کی تھی، لیکن یہ گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

موجودہ مشن کی طرح ہی بھارت نے سن 2019 میں اسی طرح کے ایک مشن کی کوشش کی تھی اور چندرایان-2 راکٹ کے ساتھ وکرم نامی ایک روؤر بھی چاند پر پہنچانے کی کوشش کی۔ تاہم چاند پر لینڈنگ کی کوشش کے دوران یہ روؤر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

چندریان 3 پر کنتی لاگت آئی

چندریان 3 کو 75 ملین ڈالر سے کچھ کم بجٹ کے ساتھ بنایا گیا تھا۔

وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے نجی خلائی لانچوں میں سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی پالیسیوں کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد انڈین اسپیس ریسرچ ارگنائزیشن (اسرو) کا یہ لانچ ملک کا پہلا بڑا مشن ہے۔

بھارت خلائی لانچ کے مارکیٹ میں اپنی کمپنیوں کے لیے پانچ گنا حصہ بڑھانے کا ارادہ رکھتا ہے، جو سن 2020 کے دو فیصد سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

بھارت نے سن 2008 میں پہلی بار تحقیقات کے لیے چاند کے مدار میں اپنا مشن بھیجا تھا۔ پھر سن 2014 میں یہ پہلا ایسا ایشیائی ملک بن گیا، جس نے مریخ کے گرد مدار میں سیٹلائٹ کو لانچ کیا۔ اس کے تین برس بعد اس کی خلائی ایجنسی نے ایک ہی مشن میں 104 سیٹلائٹ کو لانچ کیے۔

اسرو کا گگنیان پروگرام آئندہ برس زمین کے مدار میں تین روز کے لیے انسان بردار مشن لانچ کرنے بھی غور کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں