بین الاقوامی فوجداری عدالت کا سوڈان میں جنگی جرائم کی تحقیقات کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) نے سوڈان میں مبینہ جنگی جرائم کی نئی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے جمعرات کو وہاں بڑھتے ہوئے تشدد پر "سخت تشویش" کا اظہار کرتے ہوئے بتایا۔

جنگجو جرنیلوں کے درمیان تین ماہ کی جنگ کے بعد، جس نے شمال مشرقی افریقی ملک کو دوبارہ ابتر صورتحال میں دھکیل دیا ہے، کریم خان نے یہ اعلان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی گئی ایک رپورٹ میں کیا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی طرف سے ایک ریفرل کے بعد آئی سی سی 2005 سے سوڈان کے علاقے دارفور میں ہونے والے جرائم کی تحقیقات کر رہی ہے اور ہیگ میں قائم عدالت نے سابق رہنما عمر البشیر پر نسل کشی سمیت دیگر جرائم کا الزام عائد کیا ہے۔

کریم خان نے رپورٹ میں کہا کہ "سوڈان میں سکیورٹی کی موجودہ صورتحال اور موجودہ لڑائی کے دوران تشدد میں اضافہ انتہائی تشویشناک ہے۔"

آئی سی سی کے پراسیکیوٹر نے کہا کہ اپریل میں لڑائی شروع ہونے کے بعد سے سوڈان میں مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے بارے میں "وسیع پیمانے پر مواصلات" موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مبینہ جنسی اور صنف پر مبنی جرائم نئی تحقیقات کا ایک "فوکس" ہیں۔

سوڈان میں سرکاری فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان اور ان کے سابق نائب محمد حمدان دقلو کے نیم فوجی گروپ ریپڈ سپورٹ فورسز کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے لگ بھگ 3000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

یہ دونوں 2021 کی فوجی بغاوت میں اہم شخصیات تھیں جنہوں نے 2019 میں سابق صدر عمر البشیر کی معزولی اور نظربندی کے بعد ملک میں جمہوری تبدیلی کو پٹری سے اتار دیا۔

اس لڑائی کے دوران ایک دوسرے پر جنگی مظالم کے الزامات میں اضافہ ہوا ہے، سوڈان میں اقوام متحدہ کے اعلیٰ اہلکار نے بدھ کو متحارب فریقوں کے "احتساب" کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے دارفور میں ہونے والے تازہ جرائم کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے، جمعرات کو بتایا گیا ہے کہ کم از کم 87 افراد کی لاشیں جنہیں گزشتہ ماہ مبینہ طور پر آر ایس ایف اور ان کے اتحادیوں کے نے ہلاک کیا تھا، دارفور میں ایک اجتماعی قبر میں دفن کی گئی تھیں۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ 2000 کی دہائی کے اوائل میں دارفور میں ہوئے جرائم کے لیے انصاف کی عدم دستیابی، جب بشیر نے اپنی جنجاوید ملیشیا کو غیر عرب اقلیتوں پر مسلط کیا تھا، نے "تشدد اور مصائب کے اس تازہ ترین چکر کے بیج بوئے تھے،"

عمر البشیر پر نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات عائد کیے گئے تھے اور عدالت تب سے ہیگ میں ان کی حوالگی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

2019 میں بشیر حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد، خرطوم نے اعلان کیا کہ وہ اسے قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالت کے حوالے کرے گا، لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔

پراسیکیوٹر نے کہا کہ حالیہ لڑائی سے پہلے بھی "سوڈانی حکام کی جانب سے تعاون میں مزید بگاڑ پیدا ہوا تھا۔"

بشیر کے ساتھ ساتھ احمد ہارون اور عبدالرحیم حسین، سابق حکومت میں دو اہم شخصیات جو آئی سی سی کو بھی مطلوب ہیں، اب بھی فرار ہیں۔

اب تک سوڈان میں ہونے والے تشدد کے مقدمے کا سامنا کرنے والے واحد مشتبہ جنگجو ملیشیا کے سینئر رہنما علی محمد علی عبدالرحمٰن ہیں، جنہیں نام دی گورے علی کشیب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2003-4 کے دارفور تنازعے میں 300,000 افراد ہلاک اور 25 لاکھ افراد بے گھر ہوئے تھے۔

آئی سی سی کی تحقیقات کو سراہتے ہوئے، امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کو مغربی دارفور میں جاری "مظالم اور نسلی طور پر ٹارگٹ کلنگ" کی مذمت کی۔

محکمہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایک بیان میں کہا، "دارفور میں ہونے والے مظالم اور تشدد، احتساب اور متاثرین کے لیے بامعنی انصاف اور استثنیٰ کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں