موریطانیہ میں "ٹک ٹک" رکشے بند کرنے کے فیصلے پر تنازعہ

سال 2019 کے آغاز میں پھیلنے والے رکشہ ڈرائیوروں اور مالکان کو دارالحکومت نواکشوط کے علاقوں میں داخل ہونے سے روکا جا رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

موریطانیہ کے دارالحکومت نواکشوط میں اس وقت احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے جب ’’ٹک ٹک‘‘کے نام سے مشہور تین پہیوں والی رکشہ گاڑیوں کو شہر کے بعض علاقوں میں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

مظاہرین نے حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا اور خاص طور پر شہر کے مرکز کے علاقے میں رکشوں کے داخلے پر پابندی کو غیر منصفانہ فیصلہ قرار دیا ہے۔

نئے سرکاری فیصلے سے متعلق بات کرتے ہوئے پیٹرولیم اور معدنیات کے وزیر اور حکومت کے ترجمان النانی اولد چیروقا نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ان گاڑیوں کو منظم کرنے، ان کی درجہ بندی کرنے اور ٹریفک حادثات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔

جہاں تک ان رکشوں کے ڈرائیوروں اور مالکان کا تعلق ہے انہوں نے اس فیصلے کو طبقاتی امیتاز قرار دے دیا ہے۔ یاد رہے نواکشوط میں 2019 کے آغاز میں یہ ’’ٹک ٹک‘‘ گاڑیاں پھیل گئی تھیں۔

اس بحران کے دوران سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ پر بھی تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ بہت سے کارکنوں نے سڑکوں پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی گاڑیوں کی تصاویر اور ویڈیوز شیئر کی ہیں۔ ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سرکاری گاڑیوں کے ذریعہ رکشہ نما تین پہیوں والی گاڑیوں کو ضبط کر کے لے جایا جا رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں