افریقی نژاد فرانسیسی فٹ بالر دو خواتین سے زیادتی کے الزام میں بری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

مانچسٹر سٹی کے سابق فٹبالر بینجمن مینڈی کو ایک خاتون کے ساتھ زیادتی اور دوسری کے ساتھ زیادتی کی کوشش کے الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔

28 سالہ نوجوان کھلاڑی پر اکتوبر 2020 میں موٹرم سینٹ اینڈریو، چیشائر میں اس کی چار ملین پاؤنڈ مالیت کی حویلی میں ایک 24 سالہ خاتون پر جنسی حملہ کرنے کا الزام تھا۔

مسٹر مینڈی پر 29 سال کی ایک اور خاتون کے ساتھ زیادتی کی کوشش کا بھی الزام تھا، جس کا کہنا تھا کہ اس نے مینڈی نے دو سال قبل اپنے گھر میں اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ بھی کی تھی۔

یہ فیصلہ رواں سال جنوری میں پہلے مقدمے میں عصمت دری کے چھ الزامات سے بری ہونے کے بعد سامنے آیا ہے۔

چیسٹر کراؤن کورٹ میں تین ہفتے تک جاری رہنے والے مقدمے کے بعد جیوری نے مینڈی کو بے قصور قرار دینے کا فیصلہ پڑھ کر سنایا تو فرانس کا بین الاقوامی فٹبالر رو پڑا۔

چھ مردوں اور چھ خواتین کی جیوری نے نتیجے پر پہنچنے سے پہلے تقریباً تین گھنٹے اور 15 منٹ تک تفصیلی بحث اور غور کیا۔

جج سٹیون ایوریٹ نے فیصلہ پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ ’مسٹر مینڈی کو الزامات سے بری کیا جاتا ہے۔‘

نوجوان فٹبالر جس کا مانچسٹر سٹی کے ساتھ معاہدہ رواں ماہ ختم ہو گیا تھا، پر اس سے قبل چار نوجوان خواتین یا نوعمروں سے عصمت دری کے چھ الزامات اور جنسی زیادتی کا ایک الزام عائد کیا گیا تھا اور وہ اُن سب میں بری کر دیے گئے تھے۔
لیکن ججز عصمت دری اور عصمت دری کی کوشش کے دو الزامات پر فیصلے تک پہنچنے میں ناکام رہے، جس سے دوبارہ مقدمے کی سماعت شروع ہوئی۔

استغاثہ کے وکیل بینجمن اینا نے دعویٰ کیا کہ فٹبالر نے اپنے گھر پر پارٹیوں کا لطف لیا اور دو مواقع پر خواتین مہمانوں کا ’فائدہ اٹھایا‘، جب کہ ان کی دولت اور مشہور شخصیت کی حیثیت نے انہیں ایک ایسے آدمی میں تبدیل کر دیا جسے ’نہیں‘ سُننے کی عادت نہ تھی۔

مقدمے میں بتایا گیا کہ پہلی شکایت کنندہ، خاتون اے، ایک 29 سالہ طالبہ، پہلی بار مسٹر مینڈی سے بارسلونا کے ایک نائٹ کلب میں 2017 کے اواخر میں ملی تھی اور وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ مباشرت کر چکی تھی۔

وہ رابطے میں رہے اور ایک سال بعد اس نے فٹبالر کے گھر مسٹر مینڈی کے دوست سے ملنے کا انتظام کیا، جہاں وہ سب دوسری لڑکیوں کے ساتھ رات کے باہر جانے کے بعد ٹھہرے۔

خاتون نے جیوری کو بتایا کہ صبح کے بعد، جب اس نے این سویٹ باتھ روم میں شاور لیا، تو مسٹر مینڈی بن بلائے نظر آئے، صرف باکسر شارٹس پہنے ہوئے تھے، اور وہ بظاہر اپنے ’حواس‘ میں تھے۔

خاتون نے الزام لگایا کہ مسٹر مینڈی نے پھر اسے پکڑ لیا اور بستر پر اس کے ساتھ عصمت دری کرنے کی کوشش کی، باوجود اس کے کہ اس نے اسے بار بار رُکنے کو کہا۔

مسٹر مینڈی نے جیوری کو بتایا کہ دونوں رات کے وقت ’چھیڑ چھاڑ‘ کر رہے تھے اور اگلی صبح وہ اس کے کمرے میں گیا اور وہ ایک بستر پر گلے ملنے لگے۔

فٹبالر نے کہا کہ لڑکی نے اسے بتایا کہ وہ اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم نہیں کرے گی کیونکہ وہ اس کے دوست کے ساتھ آئی ہے۔

مسٹر مینڈی نے کہا کہ وہ اس وقت پریشان ہو گئی جب میں نے اسے بتایا کہ پہلے ہی تمہارے دوست سے پوچھ چکا ہوں جس نے کہا ہے کہ ’کوئی بات نہیں۔‘
فٹبالر نے خاتون کی عصمت دری کرنے کی کوشش سے انکار کیا۔

ایک اور شکایت کنندہ، خاتون بی نے مقدمے کی سماعت میں بتایا کہ وہ مسٹر مینڈی کے گھر کے قریب ایلڈرلی ایج، چیشائر میں ایک بار میں دوستوں کے ساتھ باہر تھی، جب انہیں 2019 میں فٹبالر کے گھر واپس بلایا گیا تھا۔

24 سالہ مبینہ مسٹر مینڈی نے اس سے اس کا فون لے لیا، جس میں ’مباشرت‘ تصاویر تھیں، پھر اسے اپنے بند بیڈروم میں لے گیا، جب اس نے اپنا فون واپس مانگا۔

اس نے جیوری کو بتایا کہ مسٹر مینڈی نے اس سے کہا ’میں صرف آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں‘اور اسے کہا کہ وہ اپنے کپڑے اتار دے، جو اس نے کیا۔

خاتون نے بتایا کہ فٹبالر نے اس کا فون بستر پر پھینک دیا اور جب وہ اسے لینے گئی تو اس نے زیادتی کی حالانکہ اس نے میںڈی کو بتایا تھا کہ وہ جنسی تعلق قائم نہیں کرنا چاہتی۔

خاتون نے مقدمے کی سماعت میں بتایا کہ اس کے بعد مسٹر مینڈی نے اس سے کہا کہ ’تم بہت شرمیلی ہو، یہ ٹھیک ہے۔ میں نے دس ہزار خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے ہیں۔‘

مسٹر مینڈی نے جیوری کو بتایا کہ خاتون نے بستر پر ’کھیلنے‘ پر رضامندی ظاہر کی تھی اور اس کے بعد دونوں نے سنیپ چیٹ پر رابطے برقرار رکھنے کا وعدہ کیا تھا۔

مسٹر اینا نے استغاثہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ مسٹر مینڈی ان خواتین کی نہ سننے کے عادی نہیں تھے۔

استغاثہ نے پوچھا کہ ’آپ چاہتے تھے کہ وہ عورتیں جو آپ کے گھر پارٹی کرنے آئیں، نشے میں ہوں اور جنسی تعلق کریں؟‘

مسٹر مینڈی نے جواب دیا کہ ’اگر وہ ایسا کرنا چاہیں۔ میں کبھی بھی کسی عورت کو جنسی تعلق قائم کرنے پر مجبور نہیں کروں گا۔‘

سماعت کے بعد ان کی وکیل جینی ولٹ شائر نے کہا کہ ’بینجمن مینڈی جیوری کے ممبران کا شکریہ ادا کرنا چاہیں گے کہ انہوں نے اس مقدمے میں شواہد پر توجہ مرکوز کی، بجائے اس کے کہ اس کیس کی ابتدا سے ہی اس کی پیروی کی جانے والی افواہوں اور غلط فہمیوں پر۔‘

وکیل کا کہنا تھا کہ ’یہ دوسری بار ہے جب مسٹر مینڈی پر مقدمہ چلایا گیا اور کسی جیوری نے انہیں قصوروار نہیں پایا۔ انہیں خوشی ہے کہ دونوں جیوری درست فیصلے پر پہنچی ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ مسٹر مینڈی نے ’مضبوط رہنے کی کوشش کی‘ لیکن اس عمل نے ’لامحالہ ان پر سنگین اثر ڈالا۔‘

ولٹ شائر نے مزید کہا کہ ’اب وہ اپنی پرائیویسی کا احترام چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کی تعمیر نو شروع کر سکے۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں